مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 549

مکتوبات احمد لدما جلد پنجم آکر درہم و دینار بہت سے تقسیم کرے گا کہ علماء وغیرہ کے گھر سونے چاندی سے بھر جائیں گے لیکن اس کا کہاں تذکرہ ہے کہ وہ لوگ جو روحانی طور پر بھوکے پیاسے ہوں گے ان کی اسی طور سے پوری حاجت براری کرے گا ۔ پس اگر یہ تذکرہ کسی اور جگہ نہیں تو یقیناً یاد رکھو کہ یہ وہی تذکرہ ہے جو استعارہ کے رنگ پر بیان کیا گیا ہے۔ ۱۰۔ اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت مسیح آئیں گے تو نماز کے بارہ میں آپس میں مہدی ومسیح تواضع کریں گے اور ایک دوسرے کو کہیں گے کہ وہ امام ہو یا یہ امام ہو ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیثیں جو امام مہدی کے متعلق ہیں کل مجروح و مخدوش ہیں ۔ ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں کہلا سکتی ۔ جو لوگ ان حدیثوں کو مانتے ہیں وہ اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں اور کوئی بھی جرح سے خالی نہیں ماسوا اس کے ان حدیثوں کے مخالف الف ا ایک دوسری حدیث ہے ۔ لا مهدی الا عیسی جو ابن ماجہ ماجہ اور اور مستند مستدرک میں لکھی ہوتی ہے ہے۔ ۔ یہ حدیث ہمارے ے نزدیک نزد صحیح ہے اور اس پرد پر دلیل یہ ہے کہ اس اس حدیث کے مخالف جو حدیثیں مہدی اور مسیح کے بارے میں آئی ہیں وہ ایک میان میں دو تلواریں ڈالنی چاہتی ہیں یعنی ایک ہی وقت میں دو خلیفے جمع کرتے ہیں۔ ایک طرف تو امام مہدی خلیفہ ہوئے اور دوسری طرف جو شخص آسمان سے اُترا اور ایک بڑا قصد کر کے آیا اور خدا نے اس کو بڑی اصلاح کے لئے بھیجا۔ اگر اس کو خلیفہ نہ سمجھا جائے تو خدا کا یہ سارا کام لغو ٹھہرتا ہے گویا خدا کی اوّل تو یہ مرضی تھی کہ اس کو خلیفہ مقرر کرے اور اسی نیت سے اس کو آسمان سے زمین کی طرف روانہ کیا اور ابھی وہ زمین پر نہیں پہنچا تھا کہ خدا کی نیت بدل گئی ۔ ایک اور شخص کو اس نے خلیفہ کر دیا۔ وہ بیچارہ ابھی اس مقصد سے جس کے لئے وہ خوشی خوشی اُترا تھا نا مراد رہا اور دوسری نامرادی اور دلی سوزش اس کے لئے اس سے اور بھی بڑھی کہ قریباً دو ہزار برس تک یا اس سے زیادہ اس کو امیدیں دلاتے رہے کہ وہ عہدہ تجھے ملے گا اور جب وقت آیا تو دوسرے کو دے دیا پس خدا کی شان سے یہ بعید ہے کہ ایسی بیجا حرکت جس سے مسلمانوں کے گروہ میں تشویش پیدا ہو ایسے نازک وقت میں کرے جس میں اسلام کو اتفاق کی ضرورت ہے گویا یہ مسئلہ روافض کے مسئلہ کے قریب قریب مشابہ ہو گیا کہ ایک طرف تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کرے بھیجا اور دوسری