مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 549
آکر درہم و دینار بہت سے تقسیم کرے گا کہ علماء وغیرہ کے گھر سونے چاندی سے بھر جائیں گے لیکن اس کا کہاں تذکرہ ہے کہ وہ لوگ جو روحانی طور پر بھوکے پیاسے ہوں گے ان کی اسی طور سے پوری حاجت براری کرے گا۔پس اگر یہ تذکرہ کسی اور جگہ نہیں تو یقینا یاد رکھو کہ یہ وہی تذکرہ ہے جو استعارہ کے رنگ پر بیان کیا گیا ہے۔۱۰۔اعتراض یہ ہے کہ جب حضرت مسیح آئیں گے تو نماز کے بارہ میں آپس میں مہدی و مسیح تواضع کریں گے اور ایک دوسرے کو کہیں گے کہ وہ امام ہو یا یہ امام ہو۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیثیں جو امام مہدی کے متعلق ہیں کل مجروح و مخدوش ہیں۔ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں کہلا سکتی۔جو لوگ ان حدیثوں کو مانتے ہیں وہ اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی صحیح نہیں اور کوئی بھی جرح سے خالی نہیں ما سوا اس کے ان حدیثوں کے مخالف ایک دوسری حدیث ہے۔لا مھدی الا عیسٰی جو ابن ماجہ اور مستدرک میں لکھی ہوئی ہے۔یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس حدیث کے مخالف جو حدیثیں مہدی اور مسیح کے بارے میں آئی ہیں وہ ایک میان میں دو تلواریں ڈالنی چاہتی ہیں یعنی ایک ہی وقت میں دو خلیفے جمع کرتے ہیں۔ایک طرف تو امام مہدی خلیفہ ہوئے اور دوسری طرف جو شخص آسمان سے اُترا اور ایک بڑا قصد کر کے آیا اور خدا نے اس کو بڑی اصلاح کے لئے بھیجا۔اگر اس کو خلیفہ نہ سمجھا جائے تو خدا کا یہ سارا کام لغو ٹھہرتا ہے گویا خدا کی اوّل تو یہ مرضی تھی کہ اس کو خلیفہ مقرر کرے اور اسی نیت سے اس کو آسمان سے زمین کی طرف روانہ کیا اور ابھی وہ زمین پر نہیں پہنچا تھا کہ خدا کی نیت بدل گئی۔ایک اور شخص کو اس نے خلیفہ کر دیا۔وہ بیچارہ ابھی اس مقصد سے جس کے لئے وہ خوشی خوشی اُترا تھا نامراد رہا اور دوسری نامرادی اور دلی سوزش اس کے لئے اس سے اور بھی بڑھی کہ قریباً دو ہزار برس تک یا اس سے زیادہ اس کو امیدیں دلاتے رہے کہ وہ عہدہ تجھے ملے گا اور جب وقت آیا تو دوسرے کو دے دیا پس خدا کی شان سے یہ بعید ہے کہ ایسی بیجا حرکت جس سے مسلمانوں کے گروہ میں تشویش پیدا ہو ایسے نازک وقت میں کرے جس میں اسلام کو اتفاق کی ضرورت ہے گویا یہ مسئلہ روافض کے مسئلہ کے قریب قریب مشابہ ہو گیا کہ ایک طرف تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و سلم کو نبی کر ے بھیجا اور دوسری