مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 539
و ۱۳۱۲ ہجریہ میں جمع فرمایا۔الفاظ حدیث یہ ہیں جو دارقطنی وغیرہ کتب معتبرہ حدیث میں مذکور ہے۔ان لمھدینا اٰیتین لم تکونا منذ خلق السَّمٰوٰت والارض تنخسف القمر فی اول لیلۃ من رمضان یعنی فی اول لیلۃ من اللیالی التی یقع فیھا الخسوف و تنکسف الشمس فی النصف منہ یعنی فی نصف الایام التی تنکسف الشمس فیھا انتھٰی۔بعض جہلا اس حدیث پر چند اعتراض کرتے ہیں حالانکہ وہ سب اعتراض بالکل باطل اور لغو و فاسد ہیں۔ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ حدیث من حیث الاسناد ضعیف ہے۔یہ معترض اصول حدیث کے قاعدہ کو ہی بالکل نہیں سمجھتا۔جو ایسا واہی اعتراض کرتا ہے کیونکہ سلمنا کہ اسناد ضعیف ہے۔مگر قاعدہ اصول ہے کہ اگر کوئی حدیث من حیث الاسناد ضعیف ہو جو ایک اصطلاح حدیث کی ہے تو ضعف اسناد سے لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث بھی غلط ہو جاوے مثلاً اگر واقعات اس کی تصحیح کردیویں۔توپھر وہ حدیث تو اس حدیث سے بھی اصح اور اقویٰ ہو جاوے گی جو من حیث الاسناد توصحیح ہوں۔لیکن واقعات اس کے مصدق نہ ہوئے ہوں۔اس لئے یہ حدیث تو نہایت درجہ پرصحیح اورا قویٰ ہے کیونکہ اس کی صحت اور قوت پر زمین وآسمان نے منجانب اللہ شہادت دے دی ہے۔فَصَارَالْاِعْتِرَاضُ ھَبَائً مَّنْشُوْرًا۔اور بعض کم فہم یہ اعتراض کرتے ہیں کہ زمانہ سابقہ میں ہی چند بارایسا اجتماع کسوف اور خسوف کا واقع ہوا ہے۔یہ جاہل معترض نہیں سمجھتا کہ ضمیر لم تکونا۔جو بمعنی دونشانوں کے ہے اور ظاہر ہے کہ کسی شخص نے زمانہ سابقہ میں کسوف اور خسوف کا اپنے دعویٰ کی تصدیق کے لئے نشان ہونے کا دعویٰ ہرگز ہرگز نہیں کیا بخلاف مانحن فیہ کے کہ حضرت مسیح موعود نے ہزارہا رسائل اور کتب اوراشتہارات میں ان کے نشان ہونے کا دعویٰ تمام دنیا میں شائع کیاہے۔پس مخبر صادق کی پیشگوئی تو یہ تھی کہ یہ اجتماع کسوف و خسوف ہمارے سچے مہدی کے لئے د۲و نشان ہوویں گے۔سو یہ پیشگوئی واقع ہوگئی۔اب پھر یہ کہنا کہ ایسے واقعات تو ہمیشہ ہی ہوا کرتے ہیں کیسی حماقت ہے۔جس سے تمام نشانہائے مندرجہ قرآن مجید کی تکذیب لازم آتی ہے کیونکہ جملہ انبیاء کے لئے جو نشانات من جانب اللہ دئیے گئے ہیں وہ دنیا میں واقع تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔پس معترض پر ان سب