مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 537 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 537

اگر صدباب حکمت پیش نادان بخوانند آئیدش بازیچہ درگوش اس لئے یہ کاغذ مختصرا ًاُن اُن مضامین لطیفہ اور مطالب شریفہ کے مندرج ہونے کی کب گنجائش رکھتا ہے۔مگر بحکم مَا لَا یُدْرَکْ کُلُّہٗ لَایُتْرَکْ کُلُّہٗ کے بمنزلہ ایک قطرہ کی دریاء زخار سے لکھتا ہوں۔اوّل آیت استخلاف پرہی غور کرو جو سورہ نور میں موجود ہے جس کا حاصل ترجمہ تفسیری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماچکا ہے اُن مومنوں سے جو تم میں سے ہیں یعنی اُمت ِمحمدیہ میں سے اور نیکوکار بھی ہیں کہ آئندہ بعد حضرت سیدالمرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے جانشین پیداکرتا رہے گا۔جس طرح سے کہ پہلے ان کے یعنی بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد جانشین اور خلفاء بناتا رہا ہے۔آخر تک اس آیت اور اس کے ترجمہ کو آخر تک خوب غور سے دیکھو۔بعد تھوڑے سے غور کے تم کو معلوم ہوگا کہ یہ وعدہ الاستخلاف کا امت محمدیہ میں جو بعد نبی کریم ؐ کے آئندہ زمانوں میں واقع ہو گا وہ دو صورتوں میں ہوگا۔اول صورت تو یہ کہ جانشین نبی کریمؐ کے اسی امت محمدیہ میں سے ہوں گے۔بنی اسرائیل یعنی یہود ونصاریٰ میں سے کوئی شخص جانشین ہمارے نبی کریمؐ کا نہیں آوے گا۔خواہ کوئی پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر۔دوسری قید یہ ہے کہ البتہ یہ سلسلہ استخلاف کا مانند سلسلہ استخلاف حضرت موسیٰ ہی کے ہوگا۔گویا سلسلہ استخلاف حضرت موسیٰ کا بمنزلہ ایک توطیہ اور تمہید کے تھا واسطے سلسلہ استخلاف محمدیؐ کے اب ہم دونوں سلسلوں کی اوّل اور آخر پر غور کرتے ہیں اوردرمیانی سلسلوں کو کتب مطولات کے حوالہ پرچھوڑتے ہیں تو ہم تواریخ بائبل سے پاتے ہیں کہ سلسلہ استخلاف موسوی میں قرنوں تک بہ لحاظ دین موسوی کے بحالت اصل باقی رہا۔اور کسی طرح کی تحریف وتبدیل دین موسوی میں واقع نہیں ہوئی۔جو کچھ بدعات اور تحریفات واقع ہوئیں وہ بعد تین قرنوں کے بھی واقع ہوئیں۔پھر جو ہم دین اسلام کے اوائل پر نظر کرتے ہیں تو یہ تواتر پاتے ہیں کہ تین قرنوں تک دین اسلام ہی اپنی حالت اصلی پر بڑے زور و شور کے ساتھ ترقی پذیر رہا۔اور جو کچھ دینی خرابیاں اور بدعات جاری ہوئیں وہ بھی تین صدی کے بعد ہی واقع ہوئیں۔جیساکہ دین موسوی میں واقع ہوئی تھیں۔اور مخبر صادق کی وہ پیشگوئی بھی کامل طورپر پوری ہوئی۔جو کلام نبوت میں وارد ہوئی تھی