مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 529 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 529

تصدیق کے لئے یہ دو گواہ موجود ہیں۔۱؎ اسی واسطے خداوند کریم نے مجھ کو مخاطب کرکے فرمایا۔کہ تو خوش ہو کہ تیرا وقت نزدیک آ گیا۔اور قدم محمدیاں بلند مینار پر پہنچ گیا ہے یہ کام خداوند حکیم وعلیم کا ہے اور انسان کی نظر میں عجیب۔۲؎ جو کوئی مجھے پورے ظہور سے پہلے شناخت کرے اس کو خدا کی طرف سے اجر ہے۔اور جو کوئی آسمانی تائیدوں کے بعد میری طرف رغبت کرے وہ ناچیز ہے اور اس کی رغبت بھی ناچیز ہے اور مجھ کو حکومت و سلطنت اس جہاں سے کچھ سروکار نہیں۔مَیں غریب ہی آیا اور غریب ہی جائونگا۔اور خدا کی طرف سے مامور ہوں کہ لطف اور نرمی سے اسلام کی سچائی کے دلائل اس پُر آشوب زمانہ میں ہر ملک کے آدمیوں کے سامنے بیان کروں۔اسی طرح مجھے دولتِ برطانیہ اور اس کی حکومت کے ساتھ جس کے سایہ میں مَیں امن سے زندگی بسر کر رہا ہوں کوئی تعرّض نہیں۔بلکہ خُدا کا شکر کرتا ہوں اور اس کی نعمت کا شکر بجا لاتا ہوں۔کہ ایسی پُر امن حکومت میں مجھ کو دین کی خدمت پر مامور کیا۔اور مَیں کیونکر اس نعمت کا شکر ادا نہ کروں کہ باوجود اس غُربت و بے کسی اور قوم کے نالائقوں کی شورش کے مَیں اطمینان کے ساتھ اپنے کام کو سلطنتِ انگلشیہ کے زیر سایہ کر رہا ہوں۔اور مَیں ایسا آرام پاتا ہوں کہ اگر اس سلطنت کا مَیں شکر ادا نہ کروں تو میں خدا کا شکر گزار نہیں ہو سکتا۔اگر ہم اس بات کو پوشیدہ رکھیں تو ظالم ٹھہرتے ہیں۔کہ جس طرح سے پادریانِ نصاریٰ کو اپنے مذہب کی اشاعت میں آزادی ہے ایسی ہی آزادی ہم کو اسلام کی اشاعت میں حاصل ہے۔بلکہ اس آزادی کے فوائد ہمارے لئے زیادہ ہیں۔جس طرح کہ ہم اہلِ اسلام کو اس آزادی کے فوائد حاصل ہیں دوسروں کو وہ نصیب نہیں۔کیونکہ وہ باطل پر اور ہم حق پر ہیں۔اور جُھوٹے آزادی سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔بلکہ اس آزادی سے ان کی پردہ دری زیادہ ہوتی ہے اور اس روشنی کے زمانہ میں ان کا مکر زیادہ ظاہر ہوتا ہے۔پس یہ ہم پر خدا کا فضل ہے۔کہ ہمارے واسطے ایسی تقریب پیدا ہوئی اور یہ نعمت خاص ہم کو عطا ہوئی۔البتہ علمائِ نصاریٰ کو اپنی قوم کی امداد سے لاکھوں روپیہ اپنی انجیلوں اور جھوٹوں کے پھیلانے میں ملتے ہیں اور ہم کو کچھ نہیں ملتا۔اور ان کے مددگار ملک یورپ میں (خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ عبارت حضرت مسیح موعودؑ کے دو فارسی شعروں کا ترجمہ ہے) ۲؎ (یہ حضرت مسیح موعودؑ کے ایک الہام کا ترجمہ ہے۔مؤلف)