مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 530
موروملخ کی طرح ہیں۔اور ہمارا سوائے خدا کے دوسرا کوئی مددگار نہیں۔پس اگر ہمارے کاروبار میں ناداری کے سبب کوئی حرج واقع ہو تو یہ دولتِ برطانیہ کا قصور نہیں۔بلکہ یہ ہماری اپنی قوم کا قصور ہے کہ دین کے کام میں غفلت کرتے ہیں۔اور بہت آدمی وقتِ امداد کو منافقانہ بہانوں اور جھوٹے ظنّوں سے اپنے سر سے دُور کرتے ہیں۔ہاں اپنے نگ و ناموس کے کاموں میں گھوڑوں کی طرح دوڑتے ہیں۔اور نہیں سمجھتے۔کہ اس زمانہ میں اسلام صدہا دشمنوں میں اکیلا ہے۔اور ہر ایک مذہب میدان میں اُترا ہوا ہے۔دیکھیں کس کو فتح ہوتی ہے۔پس یہی وقت ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کریں اور فلسفہ کے اعتراضوں کو جلد سے جلد دُور کریں اور قرآن کریم کی سچائی تمام خویش و بیگانہ پر ظاہر کریں۔اور خدا کے کلام کی عزت دلوں میں بٹھا دیں۔اور کوشش کریں کہ اس مذہبی لڑائی میں ہم کو فتح حاصل ہو۔اور جان توڑ کوشش کریں کہ نصرانیّت کے وسوسوں میں جو گرفتار ہیں ان کو گمراہی کے چاہ سے باہر نکالیں۔اور جو ہلاکت کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ان کو بچاویں۔یہی ہے ہمارا کام جو ہمارے ذمہ ہے۔یورپ اور جاپان دونوں ہمارے ہدیہ کے منتظر ہیں۔اور امریکہ ہماری دعوت کے واسطے کشادہ دہان ہے۔پس سخت نامردی ہے کہ ہم غافل بیٹھیں۔غرض یہ کام ہمارے ذمہ ہے اور یہی ہماری آرزو ہے جسے ہم خدا سے طلب کرتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں۔کہ خدا ہمارے مددگار پیدا کرے اور ہم منتظر ہیں کہ کب کسی طرف سے نسیم اور بشارت آتی ہے۔اے شاہِ کابل! اگر آپ آج میری باتیں سُنیں اور ہماری امداد کے واسطے اپنے مال سے مستعد ہوں۔تو ہم دُعا کریں گے کہ جو کچھ تو خدا سے مانگے وہ تجھے بخشے۔اور بُرائیوں سے محفوظ رکھے اور تیری عمرو زندگی میں برکت بخشے۔اور اگر کسی کو ہمارے دعویٰ کی سچائی میں تأمّل ہو تو اس کو اسلام کے سچا ہونے میں تو کوئی تأمّل نہیں ہوگا۔چونکہ یہ کام اسلام کا کام ہے اور یہ خدمت دین کی خدمت ہے اس واسطے ہمارے وجود اور دعووں کو درمیان میں نہ سمجھنا چاہئے۔اور اسلام کی امداد کے واسطے خالص نیّت کرنی چاہئے۔اور تائید بہ سبب محبت حضرت سیّد المرسلین کے کرنی چاہئے۔اے بادشاہ!اللہ تجھے اور تجھ میں اور تجھ پر اور تیرے لئے برکت دے۔جان لیں کہ یہ وقت وقت امداد کا ہے۔پس اپنے واسطے ذخیرہ عاقبت جمع کر لیں۔کیونکہ مَیں آپ کو نیک بختوں