مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 528

مکتوبات احمد ۵۲۸ جلد پنجم ہے کہ ہمارے زمانہ میں نصاری کا غلبہ روئے زمین پر ایسا ہے کہ اس کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی ۔ اور فریب علمائے نصاری اور ان کی کارستانی ہر ایک طرح کے مکرو فریب میں ۔ یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ یقیناً کہہ سکتے ہیں کہ دجال معہود یہی خراب کرنے والے اور تحریف کرنے والے کتب مقدسہ کے ہیں۔ جنہوں نے قریب دو ہزار کے انجیل اور توریت کے ترجمے ہر زبان میں بعد تحریف شائع کئے اور آسمانی کتابوں میں بہت خیانتیں کیں اور چاہتے ہیں کہ ایک انسان کو خدا بنایا جائے ۔ اور اس کی پرستش کی جائے اب انصاف اور غور سے دیکھنا چاہئے کہ کیا ان سے بڑا دجال کوئی گزرا ہے کہ تا آئندہ بھی اس کی امید رکھی جاوے۔ ابتدائے بنی آدم سے اس وقت تک مکر و فریب ہر قسم کا انہوں نے شائع کیا ہے جس کی نظیر نہیں ۔ پس اس کے بعد وہ کونسا نشان ہماری آنکھوں کے سامنے ہے جس سے یقین یا شک تک پیدا ہو سکے کہ کوئی دوسرا دجال ان سے بڑا کسی غار میں چھپا ہوا ہے ۔ ساتھ اس کے چاند اور سورج کو گرہن لگنا جو اس ہمارے ملک میں ہوا ہے ۔ یہ نشان ظہور اُس مہدی کا ہے جو کتاب دار قطنی میں امام باقر کی حدیث سے موسوم ہے۔ - نصاری کا فتنہ حد سے بڑھ گیا ہے اور ان کی گندی گالیاں اور سخت تو ہین ہمارے رسول کی نسبت علماء نصاری کی زبان و قلم سے اس قدر نکلیں جس سے آسمان میں شور پڑ گیا۔ حتی کہ ایک مسکین اتمام حجت کے واسطے مامور کیا گیا۔ یہ خدا کی عادت ہے کہ جس قسم کا فساد زمین پر غالب ہوتا ہے اُسی کے مناسب حال مجدد زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ پس جس کی آنکھ ہے وہ دیکھے کہ اس زمانہ میں آتش فساد کس قسم کی بھڑکی ہے اور کونسی قوم ہے جس نے تبر ہاتھ میں لے کر اسلام پر حملہ کیا ہے۔ کن کو اسلام کے واسطے غیرت ہے وہ فکر کریں کہ آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط اور آیا یہ ضروری نہ تھا کہ تیرھویں صدی کے اختتام پر جس میں کہ فتنوں کی بنیاد رکھی گئی۔ چودھویں صدی کے سر پر رحمت الہی تجدید دین کے لئے متوجہ ہوئی ؟ اور اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ کیوں اس عاجز کو عیسی علیہ السلام کے نام پر بھیجا گیا ہے ۔ کیونکہ فتنہ کی صورت ایسی ہی روحانیت کو چاہتی تھی جبکہ مجھے قوم مسیح کے لئے حکم دیا گیا ہے تو مصلحتا میرا نام ابنِ مریم رکھا گیا ۔ آسمان سے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور زمین پکارتی ہے کہ وہ وقت آ گیا ۔ میری