مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 527 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 527

نہیں۔اسی واسطے امام مالک اور امام ابن حزم اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اماموں کا یہی مذہب تھا۔اور بہت بزرگانِ دین اسی مذہب پر گئے ہیں۔البتہ عوام عجوبہ پسند ہوتے ہیں اور اس نکتہ معرفت سے بے خبر ہیں۔ان کے خیال میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ مسیح کا نزول جسمانی ہو گا اور اس روز عجب تماشا ہو گا۔جیسا کہ غبارہ کاغذی جو آگ سے بھرا ہوا ہو۔بلندی سے نیچے کی طرف اُترتا ہوا دکھائی دیوے۔ایسا ہی ان کے خیال میں مسیحؑ کا نزول ہو گا۔اور بڑی شوکت سے نزول ہو گا۔اور ہر طرف سے یہ آتا ہے وہ آتا ہے سُنا جاویگا۔لیکن یہ خدا کی عادت نہیں۔اگر ایسا عام نظارہ قدرت کا دکھلایا جاوے تو ایمان بالغیب نہیں رہتا۔وہ آدمی سخت خطا پر ہیں۔جنہوں نے ایسا سمجھا ہوا ہے کہ اب تک عیسٰے علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ہر گز ایسا نہیں ہے۔قرآن بار بار مسیح کی وفات کا ذکر کرتا ہے۔اور حدیث معراج نبوی کی جو صحیح بخاری میں پانچ جگہ موجود ہے اس کو مُردوں میں بتاتی ہے۔پس وہ کس طرح سے زندہ ہے۔لہذا اعتقاد حیات مسیح کا رکھنا قرآن اور حدیث کے برخلاف چلنا ہے اور نیز آیت کریمہ ۱؎سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے۔کہ نصاریٰ نے اپنے مذہب کو عیسٰے علیہ السلام کے مرنے کے بعد خراب کیا ہے نہ کہ ان کی زندگی میں۔بالفرض اگر عیسٰے علیہ السَّلام اب تک زندہ ہیں تو ہمیں لازم ہے کہ ہم اس بات کا بھی اقرار کریں کہ اس وقت تک نصاریٰ نے اپنے مذہب کو خراب نہیں کیا۔اور بالکل صواب پر ہیں۔ایسا خیال کفر صریح ہے۔پس جو کوئی قرآن کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہے اُسے ضروری ہے کہ وہ مسیح کی وفات پر بھی ایمان لائے۔اور یہ بیان ہمارے ان دلائل میں سے بہت تھوڑا سا حصہ ہے۔جن کو ہم نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔جسے تفصیل سے دیکھنا منظور ہو وہ ہماری کتابوں میں تلاش کرے۔اَلْقِصَّہ ضرور تھا کہ آخر زمانہ میں اسی امّت سے ایک ایسا شخص نکلے کہ جس کا آنا حضرت عیسٰے علیہ السلام کے آنے کے ساتھ مشابہ ہو اور حدیث کسر صلیب جو صحیح بخاری میں موجود ہے بلند آواز سے کہہ رہی ہے کہ ایسے شخص کا آنا نصاریٰ کے غلبہ کے وقت ہو گا۔اور ہر دانشمند جانتا