مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 505
۱؎ الشمس : ۱۰ ، ۱۱ پس اس جگہ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ ہمیں الہام ہو بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم یہ دعا کرو کہ راہ راست ہمیں نصیب ہو۔ان لوگوں کے راہ جو آخر کار خدا تعالیٰ کے انعام سے مشرف ہو گئے۔بندہ کو اس سے کیا مطلب ہے کہ وہ الہام کا خواہشمند ہو اور نہ بندہ کی اس میں کچھ فضیلت ہے بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے نہ بندہ کا کوئی عمل صالح تا اس پر اجر کی توقع ہو اور پھر جبکہ انسان کے ساتھ یہ آفتیں بھی لگی ہوئی ہیں کہ کبھی حدیث النفس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسی کو الہام سمجھنے لگتا ہے اور کبھی شیطان کے پنجہ میں پھنس جاتا ہے اور اسی کو الہام سمجھنے لگتا ہے۔پس کس قدر یہ خطرناک راہ ہے۔بغیر خدا کی زبردست شہادتوں کے ایسے الہام کب قبول کے لائق ہیں۔سخت بدقسمت وہ لوگ ہوتے ہیں کہ کبھی اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے کہ کن کن باتوں میں وہ خدا کے نزدیک پاس یافتہ ٹھہر سکتے ہیں اور کن کن آزمائشوں کے بعد ان کا صدق خدا کے نزدیک ثابت ہو سکتا ہے۔ان سخت گھاٹیوں کے طے کرنے سے پہلے ہی الہام کے خواہشمند ہو جاتے ہیں۔اس سے پرہیز کرنا چاہییٔ اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہونا چاہییٔ۔الہام بغیر پورے تقویٰ اور پوری جاں فشانی اور پوری محویت کے طبل تہی ہے اور سخت خطرناک اور زہرقاتل ہے انسان جس سے قریب ہوتا ہے اسی کی آواز سنتا ہے۔پس پہلے خدا سے قریب ہو جائو اور شیطان سے دور تا خدا کی آواز سنو۔٭ خاکسار مرزا غلام احمد