مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 506
بدر نمبر۴۷ جلد۶ مورخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۸ مکتوب محبیّ اخویم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے یہ ہے کہ میری نسبت آپ نے … کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے۔آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اسی روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں۔آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں۔میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کے خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ… کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے ، بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم… کا چندہ بکلّی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنز یر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لیے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہّ بھی بھیجیں۔ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح درست ہے یا غلط میں اسی طرح کرتا ہوں۔پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابلِ