مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 503

اپنی جماعت کے ایک دوست نے اپنے بعض الہامات اور پھر ان میں ایک وقت شیطانی دخل کا اور اپنی خوابوں اور مکاشفات کا ذکر کرتے ہوئے ایک تحریر حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں بھیجی جس کے جواب میں حضرت اقدس نے ان کو ایک خط لکھا ہے جس میں وضاحت کے ساتھ حضور نے بیان فرمایا ہے کہ سچا الہام کن لوگوں کو ہو سکتا ہے۔عام فائدہ کے واسطے وہ خط شائع کیا جاتا ہے۔مکتوب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں نے یہ تمام خط پڑھ لیا ہے۔میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ انسان مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے۔ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بڑا مشکل امر ہے۔جب تک انسان فناء کی حالت تک نہ پہنچے اور وہ خدا کی سخت آزمائشوں کے وقت صادق نہ ٹھہرے اور کئی موتیں اس پر وارد نہ ہوں اور کئی قسم کی تلخیاں خدا کی راہ میں نہ اٹھاوے اور جب تک کہ ہر ایک قسم کی نفس پرستی اور عُجب یا شہرت کی خواہش اس سے دور نہ ہو اور جب تک کہ سچی تبدیلی اس میں پیدا نہ ہو اور جب تک کہ خدا کی رضا جوئی کے نیچے ایسا محو نہ ہو کہ کچھ بھی نہ رہے اور جب تک کہ وہ خدا کو وہ استقامت نہ دکھاوے کہ بارش کی طرح اس پر بلائیں برسیں اور وہ صابر رہے اور جب تک کہ اس کا حقیقی تعلق خدا سے نہ ہو جاوے کہ تمام نفسانی پرَوبال جھڑ جاویں اور تمام سفلی خواہشیں جل جاویں اور جب تک کہ نفس لوّ امہ کا جنگ ختم نہ ہو جائے اور جب تک یہ آگ اس میں پیدا نہ ہو کہ وہ خدا کی رضا کو اپنی تمام اور کامل مراد بناوے اور دوسری تمام مرادیں درحقیقت معدوم ہو جاویں اور جب تک کہ ایک تپش اور خلش لازمی طور پر خدا کی محبت میں اس کے سینے میں پیدا نہ ہو جائے اور جب تک کہ وہ درحقیقت خدا کے لئے ذبح نہ ہو جائے اور جب تک کہ اس کی ہستی پر ایک بھاری انقلاب نہ آوے اور جب تک کہ وہ خدا کے مقابل پر سخت امتحانوں کے وقت اور اس کے جلال ظاہر کرنے کے لئے ہر ایک لحظہ میں اور ہر ایک حالت میں