مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 494
میں کہتا ہوں کہ اس درجہ معرفت سے کیا مراد ہے؟ اگریہ اسماء صفات باری جاننے سے تعبیر ہیں تو اس کا اجمال تو خوددل کے اندر ہی نقش ہے جس کی تفصیل کلامِ ربّانی کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے اور اگر درجہ معرفت سے مراد دراصل فانی فی اللہ ہونا ہے جو انبیاء و اولیاء کا وصف ہے۔تو جاننا چاہیے کہ وہ مقام انسان کے اختیا رسے بلند تر ہے اوراس میں حکمت و تدبیر پیش نہیں جاتی۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ تلاوت کلام ربّانی سے حق تعالیٰ کا ارادہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وحدت باری پر ایمان لانے اور اسکی تمام صفات کے اقرار کے لیے دستِ تقدیر نے ایک قوت انسان کے دل میں تحریرکردی ہے اور وہی قوت ایمان لانے کا باعث ہے ایک پہلو سے یہ قوت عبادت بجالانے کے لیے دی گئی ہے اور وہی فریضہ عبادت بجا لانے کا مکلف بناتی ہے جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ بذاتِ خود قرب و وصالِ حق کے لیے طاقت نہیں رکھتا اور انسان کو انوارِالٰہی کے حقائق کا علم حاصل کرنے کی (ذاتی طور پر) طاقت و مقدرت نہیں ہے کیونکہ خدا محکوم نہیں ہے کہ انسان کے ارادہ کے تابع ہو اور انسان حاکمِ خدا نہیں کہ انوارِ ایزدی کے خزانہ میں دخل اندازی کرسکے۔پس ایک ذرہ امکان محیط العالمین کی ذاتِ والا پر کس طرح محیط ہواور ایک حقیرمخلوق ہرچیزکے پیداکرنے والے کو کس طرح دریافت کرے سوائے اسکے کہ وہ خوداپنی ذات کا جلوہ کسی کو دکھلائے اور دوسرے یہ کہ وہ خود اس کے دل کو منور کردے۔لہٰذا تقاضائے رحمتِ ایزدی نے خداوندمتعال کی طرف سے خود استعانت کی اجازت بخشی۔یہی مضمون ہے کہ جب بھی ہم نماز قائم کریں تو چاہیے کہ اسماء و صفات ِحق تعالیٰ کے تصورسے ہر چیز کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے دل کوظلماتِ حیرت میں ڈالیں اوراس وقت اپنے خدا سے استعانت کے طلب گار بنیں کہ اے خدایا! ہم نے محسوسات کے نشیب گاہ سے حتیّ المقدور اپنے آپ کو باہر نکال کر خودکوتیرے جلال کے تصور کی طرف کھینچا ہے لیکن اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہم اُس درگاہِ عالی تک نہیں پہنچ سکتے اب تیری مدد کے منتظر ہیں۔لیکن جاننا چاہیے کہ یہ تصورِ استعانت اس طرح روح و دل کے ساتھ ظلمات حیرت میں یکجا ہو جائے کہ گویا روح و دل ہی صورتِ تصور ہے۔یہ ہم بنی آدم کی انتہا درجہ کی کوشش ہے اسکے بعد معرفت کے درجہ پر پہنچانا اور اپنی طرف کھینچنا خدا کا کام ہے۔چنانچہ آیتمیں اسی استعانت کی جانب