مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 493
دوسروں کوساکت کردیتاہے۔ہاں! ۱؎ صفحہ اوّل کی نویں سطر میں تحریر ہے کہ یہ لو گوں کو کہتے ہیںکہ بت پرستی پر طعن کرنا غلط ہے (کیونکہ) اہل اسلام ہمارے عقائدکی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ہم ان ہرسہ میں سے ہرایک کو مَظہرِالوہیّت اوراپنی توجہات کامرکزقراردیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ کو مجسم ماننے کا عقیدہ ہمیشہ سے باطل ہے۔پس ایساخیال کرنا فاسد پر فاسد کی بناء رکھنے کی طرح ہے۔صفحہ اوّل دسویں سطر۔ہندو یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں کو آنکھوں کے سامنے رکھنا اس وجہ سے ہے کہ تا دل کو ہم پراگندگی سے بچا ئیں۔میں کہتا ہوں کہ دل کی دوحرکتیں ہیں۔ایک بیرونی حرکت ہے جو مبدئِ شہواتِ جسمانی ہے اور دل کی پراگندگی کاباعث ہے۔منجملہ ان شہوات میں سے ایک بت پرستی ہے۔دوسری اندرونی حرکت ہے جو مبدء قرب و معرفت اور اطمینان وآرام کا باعث ہے۔اور نفس کی تقسیم، نفس امّارہ ،نفس لوّامہ و نفس مطمئنہ کی اسی بنیادپرہے اور دل کی پراگندگی پر مخلوق نہیں ہے ورنہ انسان عبادت کے لیے مکلف نہ ٹھہرتا۔اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ :بت پرستی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دل دید کی خواہش کرتا ہے اور ہم اس خواہش کی تکمیل بت پرستی سے کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ دل تو وصال خدا کا طالب ہے پس وہ شوق بجز وصال خدا کے کہاں تسکین پائے گا۔یہ تو اسی مثل کے مصداق ہے کہ کسی کو پانی کی احتیاج ہو اور اس کو آگ میں پھینک دیا جائے۔صفحہ۲ کی سطر۲۔ہندو کہتے ہیں کہ ہم بتدریج اجسام پرستی سے دریا ئے حقیقت کے طرف جاتے ہیں اور ہمارے بت پرستش کے وقت عینک کی مانند ہیں اس سے زیادہ ہمارے نزدیک وقعت نہیں رکھتے یعنی عینک جو آنکھ کی مددگار ہے اسی طرح بُت بھی دل کے مددگار ہیں جو دل کو جلدترعرفان کے درجہ پر پہنچا دینے کا موجب ہیں۔