مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 475
میری رہنمائی کریں تو آپ دیکھیں گے کہ میں سردجوش مقتدی نہیں ہوںبلکہ ایک گرم جوش طالب ہوں۔میں تین سال سے اسی تلاش میں ہوں اور بہت کچھ معلوم بھی کرچکا ہوں کہ خدا نے مجھ پر بافراط اپنی برکتیں نازل کیں اور میری یہ تمنّا ہے کہ اس کے کام کو بشوق بصدق تمام ترسر انجام دوں ہاں یہ کشمکش پیدا ہورہی ہے کہ کس طرح سے اس کام کو کروں کیا کروں اور کس طرح کروں کہ یہ کام اکمل طور سے پورا کرسکوں اس کی جناب میں یہ دعا ہے کہ مجھ کو راہ کی صاف صاف رہنمائی ہو اور گمراہی سے محفوظ رہوں۔اگر آپ میری مدد کریں تو میں امید کرتا ہوں کہ آپ ایسا کردیں گے میں آپ کی چٹھی کو حفاظت سے رکھوں گا اور اس کی نہایت تکریم کروں گا میں آپ کے اشتہار کو امریکہ کے کسی نامور اخبار میں چھپوا دوں گا اور ایک نسخہ اس اخبار کا آپ کے پاس بھی بھیجوں گا جس سے اس کی شہرت بہت وسعت پا جائے گی اور وہ ایسے لوگوں کی نظروں میں گزرے گا جو اس طرح کے معاملات میں شوق اور توجہ ظاہر کریں گے آئندہ کو کوئی اور حقیقت جو آپ عام طورسے مشتہر کرنا چاہیں گے اور میرے پاس اسی غرض سے بھیجیں گے تو یہ میری کمال خوشی اور سرور کا باعث ہوگا اور اگر آپ میری خدمتوں کو امریکہ میں امور حقّانی کی اشاعت کے قابل سمجھیں تو آپ کو ہر وقت مجھ سے ایسی خدمت کرانے کا پورا پورا اختیار ہے بشرطیکہ مجھ تک آپ کے خیالات پہنچتے رہیں اور میں ان کی حقّانیت کا قائل ہوتا رہوں مجھ کو یہ تو بخوبی یقین ہوچکا ہے کہ محمدؐ صاحب نے سچ پھیلایاا ور راہ نجات کی ہدایت کی اور جو شخص کہ اس کی تعلیمات کے پیرو ہیں ان کو ہمیشہ کے لئے خوش اور مبارک زندگی حاصل ہوگی۔مگر کیا عیسیٰ مسیح نے بھی سچا اور سیدھا راہ نہیںؔ بتلایا؟ اور اگر میں ہدایت عیٰسی کی متابعت کروں تو پھر کیا نجات کی ایسی یقینی طور سے امید نہیں کی جاسکتی جیسے کہ دین اسلام کی متابعت سے؟ میں سچ معلوم کرنے کی غرض سے سوال کررہا ہوں نہ مباحثہ وجدال کی غرض سے میں حق کی تلاش کررہا ہوں۔میں کسی خاص دعویٰ کے اثبات کے لئے جدل نہیں کرنا چاہتا میں خیال کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ آپ محمدؐ صاحب کے فی الحقیقت ہدایات کے پیرو ہیں نہ ان عقائد کے جو عامہ خلائق دین محمدی سے مراد لیتے ہیں اور تمام مذاہب میں جو سچ سچ حقیقتیں موجود ہیں ان کو مانتے ہیں نہ ان عقائد کو جو عام لوگ بعد میں اپنی طرف سے زیادہ کرتے رہے مجھے یہ بھی سخت افسوس ہے کہ میں آپ کی زبان سمجھ نہیں سکتا ہوں اور نہ آپ میری زبان سمجھ سکتے ہیں ورنہ میں یقینًا کہتا ہوں کہ جو سبق میں آپ سے