مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 467
مکتوب بنام شیخ محمد چٹو صاحب لاہوری بعد دعا کے واضح ہو کہ بدر کے اخبار مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۷ء نمبر۴ میں جو میری طرف سے آپ کی طرف ایک مضمون چھپا تھا اس کے جواب میں کسی شخص نے اخبار مورخہ ۲۴؍جنوری کو ایک مضمون طبع کراکر اور رجسٹری کراکر میری طرف بھیجا ہے اور اخیر پر آپ کا نام لکھ دیا ہے گویا اس تحریر کے آپ ہی راقم ہیں اور اس میں مجھے مخاطب کر کے یہ اعتراض کیا ہے کہ کس طرح سمجھا جاوے کہ یہ آپ کی طرف سے مضمون ہے۔اس پر آپ کے دستخط نہیں اور قرآن شریف میں ہے کہ اگر کوئی فاسق یعنی بدکار خبر دیوے تو تحقیق کر لینا چاہیے کہ وہ خبر صحیح ہے یا نہیں اور اس فقرہ سے کاتب مضمون نے میرے دوست عزیز القدر مفتی محمد صادق ایڈیٹر اخبار کو جو ایک صالح اور متقیآدمی ہیں۔فاسق اور بدکار آدمی قرار دیا ہے۔میں باور نہیں کر سکتا کہ ایسی ناپاک تہمت کا لفظ جس کے رو سے خود ایسا انسان فاسق ٹھہرتا ہےآپ کے مونہہ سے نکلا ہو اور ہر ایک اہل علم کو معلوم ہے کہ شریعت اسلام کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کافر یا فاسق کہے اور وہ اس لفظ کا مستحق نہ ہو تو وہ کفر اور فسق اسی شخص کی طرف لوٹ آتا ہے اور گورنمنٹ انگریزی کے قانون کے رو سے بھی کسی کو فاسق یا بدکار کہنا ایسے صاف طور پر جرم ازالۂ حیثیت عرفی میں داخل ہے کہ ایسا شریر انسان ایک ہی پیشی میں جیل خانہ دیکھ لیتا ہے۔پس کچھ شک نہیں کہ اگر مفتی صاحب عدالت میں اس ازالۂ حیثیت عرفی کی نسبت نالش کریں تو ایسا بدقسمت اور جاہل انسان جس نے ان کی نسبت یہ ناپاک لفظ بولا ہے۔فوجداری جرم میں بے چون و چرا سزا پا سکتا ہے مگر آپ پر میں نیک ظن کرتا ہوں۔مجھے امید نہیں اور ہرگز امید نہیں کہ ایسا لفظ آپ کے مونہہ سے نکلا ہو چونکہ آپ محض ناخواندہ ہیں اور بوجہ ناخواندہ ہونے کے اخباروں اور رسالوں کو پڑھ نہیں سکتے اس لئے مجھے یقین ہے کہ آپ اس نالائق حرکت سے بری ہیں بلکہ کسی خبیث اور ناپاک طبع اور نہایت درجہ کے بدفطرت کا یہ کام ہے کہ بغیر تفتیش کے نیکوں اور راستبازوں کا نام بدکار اور فاسق کہتا ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے براہ مہربانی اطلاع دیں گے کہ کس پلید