مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 466
نے کہا تھا اس کی نفی کی جاوے تاکیدات سے ہی دوسرے معنی آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں جو تمام تفاسیر میں لکھے ہیں کہ ہر ایک اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آتا ہے اور جو معنی آپ نے سمجھے ہیں وہ معنی محض غلط ہیں ان کی تغلیط تفاسیر معتبرہ میں بھی لکھے ہوئے ہیں۔دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۷۳۱ و ۷۳۲ کو جس میں ان معنوں کا غلط ہونا ثابت کیا ہے۔ولیس ذلک فی شی من الاحادیث المرقومہ و کیف یفتح ہذا التاویل مع ان کلمہ ان من اہل الکتاب شامل الموجودین فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم الیہ سواء کان ہذا لحکم خاصابھم اولا فان حقیقۃ الکلام للحال ولاوجہ لان برادہ فریق من اہل الکتاب یوجدون جلن نزول عیسیٰ علیہ السلام فالتاویل الصحیح ہو الاول ویویدہ قراء ۃ ابی ابن کعب آخر تک۔ترجمہ: یعنی احادیث مرفوعہ ہیں۔ان معنی کا کوئی اصل صحیح موجود نہیں اور یہ تاویل کیونکر صحیح ہو سکتی ہے باوجودیکہ کلمہ ان من اہل الکتاب ان اہل الکتاب کو بھی شامل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں موجود تھے خواہ یہ کلمہ یعنی ان من اہل الکتاب انہیں سے خاص ہو یا خاص نہ ہو لیکن حقیقت کلام جو زمانہ حال آنحضرت (صلی اللہ علیہ و سلم) کا زمانہ ہے وہ سب زمانوں سے مراد ہونے میں زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہلِ کتاب خاص کئے جاویں جو حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔پس صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں قراء ۃ ابی بن کعب بھی اسی کی مؤید ہے آخر تک۔آگے رہا ہمارا دعویٰ دربارہ مسیح موعود ہونے اور مہدیت کے سوا اس کے ثبوت کے لئے ہزارہا نشانات موجود ہیں تم برائے چندے یہاں پر آکر قیام کرو تاکہ حقیقت دعویٰ کی تم کو ثابت ہو جاوے اب غور کرو کہ جس کھیت کے نمبر کا زمیندار وں میں کچھ جھگڑ ا پڑتا ہے پٹواری کا حاضر ہونا موقعہ نزاع پر ضروریات سے ہوتا ہے مثل مشہور ہے قضیہ زمین برسرزمین۔والسلام علی من اتبع الھدٰی۔٭ ۱۴؍جنوری ۱۸۹۷ء راقم مرزا غلام احمد