مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 462
ایک وقت میں جبکہ یہودیوں کے ہاتھ سے جناب عیسیٰ علیہ السلام تنگ تھے جناب الٰہی نے ان سے وعدہ کیا کہ میں تم کو موت (بمعنی پورا قبض کرنا) کروں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کافروں سے پاک کروں گا پس جبکہ کا وعدہ بغیر رفع معہ جسم عنصری کے پورا نہیں ہو سکتا اور ظاہر ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَایُخْلِفُ الْمِیْعَادَ تو ضرور ہوا کہ فوت کا معنی مرجانا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اگر صرف روح کے واسطے مُطَھِّرُکَ کا وعدہ تسلیم کیا جاو ے تو عامہ ارواح سے روح عیسوی کی فضیلت نہیں پائی جاتی اور ضروری ہے کہ کفار حکام وقت نے اس جسم پاک کے ساتھ کئی طرح کی بے ادبی کی ہو اور اس صورت میں خداوند عالم کے ذمہ وعدہ خلافی کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔معاذ اللہ منھا۔پس ضرور ہوا کہ جناب موصوف حسب وعدہ خداوندی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے ثانیاً آیت شریف ۔۱؎ سے ثابت ہوتا کہ آنجناب بعد رَفَعَ اِلَی السَّمَآئِ۔اب تک معہ جسم عنصری آسمان پر زندہ موجود ہیں اور کسی وقت میں بموجب مسلمات امت اسلام زمین پر نازل ہوں گے اور تمام اہل کتاب یعنی مسلمان و یہود و نصاریٰ ان کے ساتھ متفق ایمان ہوں گے اس کے بعد وہ مریں گے۔سو چونکہ آپ کے وجود میں یہ صفت نہیں پائی جاتی اس لئے میں آپ کے دعویٰ پر یقین نہیں لاتا پس اگر آپ بالحق مامور ہیں اور مسیح موعود ہیں تو میرے اس اعتراض کا جواب دے کر تشفیّ کریں اور تحریر جواب کے واسطے ۱؍کا ٹکٹ ارسال ہے۔اور اگر اس کا جواب نہ دیویں تو لازم ہے کہ دعویٰ باطل چھوڑ کر سچے سیدھے مسلمان ہو جاویں۔٭ فقط تحریر ۵؍رمضان المبارک ۱۳۱۴ ہجری الراقم محمد اسماعیل پٹواری موضع پسنانوالہ ڈاکخانہ ڈہریوالہ ضلع گورداسپور