مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 445

الہامی عبارت میں ہے کہ ’’مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں وعدہ کے موافق تو آیا یعنی جو مسیح ابن مریم کے آنے کے لئے وعدہ تھا وہ ظلّی طور پر تیرے آنے سے پورا ہو گیا کیونکہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اصل جھگڑا مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات کا ہے اگر مسیح ابن مریم کا زندہ ہونا ثابت ہو جائے تو پھر میں بھی جھوٹا اور میرا الہام بھی جھوٹا۔لہٰذافروع میں بحث کرنے کی کچھ ضرورت ہی نہیں۔اصل کی بحث میں بہت باتیں طے ہو جاویں گی۔میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اگر آپ مسیح کا اب تک زندہ ہونا ثابت کر دکھائیں گے۔تو پھر میں اس الہام کو الہام الٰہی نہیں سمجھوں گا۔کیونکہ جبکہ مسیح ابن مریم اب تک زندہ ہے تو میرا الہام جو اس کی وفات ظاہر کرتا ہے صریح جھوٹا نکلا تو پھر کیا مجال ہے کہ میں اس پر اڑا رہوں اور اگر آپ یہ کہیں کہ ہم مسیح ابن مریم کی وفات مان چکے ہیں اس لئے اس میں بحث کرنا نہیں چاہتے صرف اس بات میں بحث کریں گے کہ تم اس کی جگہ آئے ہو نہ اور کوئی اس بات کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو میری طرف سے اس امر کے لئے کسی پر جبر نہیں کہ خواہ مخواہ مجھ کو قبول کرے اور مجھ پر ایمان لاوے بلکہ میری طرف سے صرف تبلیغ تھی۔جس کا حق میں نے ادا کر دیا۔اگر میں خدا کی طرف سے ہوں تو وہ مجھے اور میری کارروائی کو ضائع نہ کرے گا اور عنقریب لوگ دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے یا نہیں میری طرف سے کسی پر جبراور اکراہ تو نہیں تا وہ دلیل اور نشان کا طالب ہو۔نشان خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے گا دکھائے گا۔ماسوا اس کے یہ عاجز بے نشان۱؎ بھی نہیں بھیجا گیا۔اگر آپ پہلے مسیح کی وفات یا حیات کا فیصلہ کر لیں جو اصل اصول اس تنازعہ کا ہے تو پھر آپ یہ شخصی بحث بھی کر سکتے ہیں کیونکہ میرا آنا مسیح ابن مریم کی فرع ہے اگر مسیح اب تک زندہ ہے تو میرے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے کسی اور بحث کی ضرورت نہیں۔اگرآپ مسیح ابن مریم کا زندہ ہونا ثابت کر دیں تو میں اپنے باطل پر ہونے کا خود اقرار کردوں گا۔اگر آپ مسیح ابن مریم کی وفات کو مان گئے ہیں تو اوّل بذریعہ اشتہار عام و خاص میں یہ اپنی رائے شائع کیجئے۔اس لئے گو اصل امر قابل بحث یہی تھا لیکن میں نے بوجہ اپنے تبدل رائے کے اس کو چھوڑ دیا سو آپ کے لئے دو امروں میں سے ایک امر ۱؎ چنانچہ ہزارہا نشان دکھائے گئے۔ایڈیٹر