مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 446
ضروری ہے اگر وفات مسیح ابن مریم میں شک ہے تو سب سے پہلے اس کی بحث کیجئے کیونکہ تمام تنازعات کی جڑ تو یہی ہے۔اگر مسیح ابن مریم کو آپ اب تک زندہ مانتے ہیں اور وہ بجسدہ العنصری دوسرے آسمان پر بیٹھے ہیں تو ان کی زندگی ثابت کر دکھائیں اس کے بعد میری کیا مجال کہ میں اپنے اس دعوے میں دم بھی مار سکوں۔میرے اس دعوے کی تو وفات مسیح شرط ہے جب مسیح کا زندہ ہونا ثابت ہو گیا تو بحکم اذا فات الشرط فات المشروط۔میرا دعویٰ خود ہی ٹوٹ گیا اور اگر آپ کے نزدیک بھی مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اب صرف آپ کے دل میں یہ دھڑکا ہے کہ مثالی طور پر آنے والا یہی شخص ہے یا کوئی اور ہے تو اوّل بسم اللہ کر کے مسیح ابن مریم کی وفات کا اشتہار شائع کیجئے۔پھر دوسری بحث بھی کیجئے اور آپ نے جو لکھا ہے کہ میں مسافر ہوں۔امن قائم کرنے کے لئے پولیس وغیرہ کا تمہیں انتظام کرنا چاہئے۔تو حضرت آپ کے نزدیک کیا یہ عاجز اس شہر کا قدیمی باشندہ ہے۔میں صرف چند ماہ سے عارضی طور پر اس جگہ آیا ہوں۔آپ اس جگہ کے معزز ملازم ہیں اور بوجہ ملازمت ہر ایک سے تعلق رکھتے ہیں۔میں بوجہ اختلافی مسئلہ کے قریباً تمام شہر کی نظر میں مہجور و متروک ہوں کوئی کافر کہتا ہے کوئی ملحد مگر آپ تو ایسے نہیں ہیں اگر آپ مسافر ہیں تو کیا وہ سارے علماء و امراء اور ملازمت پیشہ جو آپ کے ہم مشرب ہیں وہ بھی مسافر ہیں۔کیا آپ اس بحث میں اکیلے ہی ہیں اور باقی سب میری بات پر ایمان لے آئے ہیں۔امن قائم رکھنے کے لئے انتظام کرنا میرے جیسے غریب الوطن مخذول کا کام نہیں جس کے ساتھ اب علماء کے فتوے سے السلام علیکم بھی جائز نہیں اور جس کو ممبر پر چڑھ کر بدتر سے بدتر بیان کیا جاتا ہے۔ماسوا اس کے یہ امر ضروری طور پر قابل دریافت ہے کہ اس عاجز نے براہ راست کسی کو اپنے اشتہار میں …… بلکہ آپ سب صاحبان کا …… مولوی عبد العزیز صاحب کو قرار دے کر انہیں کے توسط سے ہر ایک کا بحث کرنا منظور رکھا ہے۔یعنی سب سے پہلے بحث کرنے کا حق انہیں کا ٹھہرایا گیا ہے۔کیونکہ وہ شہر کے رئیس اور اکثر لوگوں کے مقتداء ہیں۔اگر وہ بحث کرنے سے عاجز ہوں تو میں نے اپنے اشتہار میں براہ راست کسی کو نہیں بلایا۔بلکہ یہ ظاہر کیا ہے کہ رئیس مولوی صاحب اپنے عجز اور درماندگی کی حالت میں آپ کو یا کسی اور کو اپنا وکیل کر کے پیش کر دیں۔سو میں معلوم کرنا چاہتا