مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 37

شعروں کا ایک مجموعہ نور نامہ کے نام پر تھا۔آپ نہایت خوشخط تھے اور پورے قرآن کریم کو اپنے ہاتھ سے مکمل خوشخطی کے ساتھ لکھا تھا۔لیکن افسوس کہ جس وقت مخالفت زور پکڑ گئی اور ہمارے گھر جلائے گئے تو اس وقت وہ نسخہ (قرآن کریم) بھی خاکستر ہو گیا۔۱۶؍مارچ ۱۹۰۳ء کو جب حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہیدؓ کی گرفتاری کا حکم آیا اور شہید مرحوم کو کابل روانہ کیا تو اس وقت آپؓ بھی ان کے تعاقب میں ان کے پیچھے پیچھے جارہے تھے لیکن حضرت صاحبزادہ صاحبؓ نے انہیں حکماً فرمایا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں جانے کوکہا ہے۔اس لئے آپ خوش ہو جائیں اور میرے پیچھے نہ آئیں۔حکم کی اطاعت میں آپؓ واپس ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی شہادت کے بعد افغانستان میں بالخصوص جہاں جہاں احمدی گھرانے تھے ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔حضرت غلام محمد صاحب افغان ؓ کے گھر سے ایک غیراحمدی رشتہ دار نے مولوی صاحبؓ کا ایک لکھا ہوا خطبہ چرا کر صوبے کیحاکمکے سامنے بطور ثبوت کے پیش کیا۔جس کے بعد حضرت مولوی صاحب ؓ پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا۔انہیں گرفتار کر کے زدوکوب کیا گیا لیکن جب معاملہ حاکم کے پاس گیا جو زیادہ متعصب نہ تھا اس نے آپؓ کی حالت پر رحم کر کے چھوڑ دیا۔چند سال آپؓ اصحاب کہف کی طرح خفیہ زندگی بسر کرتے رہے۔آخرآپؓ نے قادیان آنے کا ارادہ کر لیا اور قادیان میں اپنے آقا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔۲۸؍جولائی ۱۹۳۲ء کو آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور اپنے آقا حضرت مسیح موعود ؑ کے قرب و جوار بہشتی مقبرہ کے قطعہ نمبر۷ میں مدفون ہوئے۔آپؓ نے اپنے پسماندگان میں بیوی کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔