مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 36
حضرت سیّد غلام محمد صاحب افغان ؓ مکرم سید سلیم احمد صاحب ہاشمی مربی سلسلہ آپ کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں۔حضرت مولوی سید غلام محمد صاحب افغانؓ کے والد صاحب کا نام سید دین محمد صاحب تھا۔(مولوی صاحب کے والد صاحب صحابی تو نہ تھے لیکن انہوں نے اور فیملی کے اکثر افراد نے خطوط کے ذریعے بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے تھے) آپ اپنے خاندان میں سے واحد شخص تھے جس کو حضرت مسیح موعود ؑ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے۔حضرت مولوی صاحب افغانستان کے صوبہ پکتیاکی جاجی قوم میں سادات کے معزز اور اہلِ علم خاندان میں سے تھے۔آپؓ کی ولادت ۱۵؍جنوری ۱۸۴۹ء میں ہوئی۔آپؓ نے اپنی زندگی کے چالیس برس درس و تدریس میں گزارے۔ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی۔سترہ برس کی عمر میں آپؓ نے حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب شہیدؓ کی شاگردی اختیار کی۔چار سال بعد مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کرنے پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے آپ کی دستاربندی کی۔اکتوبر ۱۸۹۷ء کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے احمدیت قبول کی تو حضرت مولوی سید غلام محمد صاحب افغانؓ نے بھی اپنے استاد کی اقتداء میں فوراً احمدیت قبول کر لی۔حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کے مشورہ پر مولوی سید غلام محمد صاحب افغانؓ اور حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب شہیدؓ قادیان چلے گئے۔صاحبزادہ صاحبؓ نے اپنی بیعت کا خط بھی حضرت مولوی صاحب ؓ کے سپرد کیا۔قادیان پہنچ کر آپؓ کو دستی بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت مولوی صاحبؓ اپنے علاقے (صوبہ پکتیا) میں عالم باعمل، نیک متقی اور پرہیز گار بزرگ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔آپؓ پشتو اور فارسی زبان کے شاعر بھی تھے۔ان کے