مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 439

ترجمہ از ناشر بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بخدمت آنجناب کہ جو معانی سے پوری آگاہی رکھتے ہیں اور جو معارف کا مخزن ہیں جن کی نگاہ حقائق کو دیکھنے والی ہے اور جو شریعت سے باخبر ہیں۔اللہ تعالیٰ جن کا پشت پناہ ہے غیر اللہ کو چھوڑ کر اسی کی طرف متوجہ ہیں اور جو خدائے بے نیاز سے تائیدیافتہ ہیں جناب مرزا غلام احمد صاحب جو بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں۔خدائے یگانہ آنجناب کو سلامت رکھے۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ہمیں جناب سے جو کہ تمام نفوس اور تمام جہان کے روح رواں ہیںملاقات کا شوق اتنا زیادہ ہے جتنے کہ آپ کے اخلاق کریمانہ زیادہ ہیں اور اس مجاہد فی سبیل اللہ کی محبت روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔اس سخی ذات کا جو بخل سے پاک ہے بڑا احسان ہے کہ اس فقیر کے اوقات کو بے حد مہربانی سے ظاہر و باطن کی عافیت کی راہوں پر چلا رکھا ہے اور ہماری دعا اور مقصود ہے کہ خدائے عزیز آپ جیسے پسندیدہ اخلاق اور حمیدہ خصائل انسان کا مؤید رہے اور محبت اور پیار کے چمکتے ہوئے موتیوں کی لڑی اور صداقت و اتحاد کے درخشندہ جواہر کا ہار یعنی جناب کا وہ خط جو سراپا اخلاص اور صفا کے مواد سے بھرا ہوا ہے اور جو راستی اور سچی محبت کے ذخیروں سے لبریز ہے اس نے ہمیں اپنے کریمانہ ورود سے مشرف فرمایا اور ہمیں بے حد مسرت بخشی۔اے معالم کے سمندروں میں غوطہ لگانے والے اس فقیر نے آپ کے الفت آمیز الفاظ اور مسرت بخش معانی اور حیرت انگیز معارف سے ایک ایسا ذخیرہ حاصل کیا ہے جس سے دل بے حد محظوظ ہوا اور جلسہ اعظم مذاہب لاہور کا مضمون جو آنجناب نے ارسال فرمایا ہے باوجود ایک بیش قیمت حقائق کی (روحانی) غذا ہونے کے (اس کے مضمون کو) حیرت انگیز طریق سے ادا کیا گیا ہے جس نے سامعین کے دل موہ لیے۔دعا ہے کہ آنجناب ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی غائبانہ نوازشات اور کرم فرمائیوں سے اس قسم کے مجاہدات کی توفیق پاتے رہیں۔اور فقیر کو مسرت بخش حالات کی آگاہی کا طالب سمجھ کر اپنے اعلیٰ رسائل اور بلندپایہ مکاتیب تحریر فرما کر مسرور فرماتے رہا کریں۔۴ شوال المکرم ۱۳۱۴ ہجریہ قدسیہ۔الراقم فقیر غلام فرید الچشتی النظامی۔سجادہ نشین از چاچڑاں شریف