مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 440

مکتوب بنام فخر الدین احمد صاحب امروہے سے ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت میں متعہ کے جواز و عدم جواز پر ایک خط لکھا حضرت اقدس نے وہ خط جناب مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب کو جواب کے لئے سپرد کر دیا مولانا موصوف نے جو اس کا جواب رقم فرمایا ہے وہ یہاں ناظرین الحکم کے لئے مندرج کیا جاتا ہے وہ یہ ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامداً و مصلیاً محبی حضرت فخر الدین احمد صاحب۔بعد سلام مسنون الاسلام آنکہ حضرت اقدس نے آپ کا خط متضمن استفسار جواز و عدم جواز متعہ باستدلال آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ الآیہ واسطے لکھنے جواب کے مجھ کو دیا۔لہٰذا جواب اس کا محرر کیا جاتا ہے و ھو ہذا۔جواز متعہ یعنی جواز عقد موقت کے لئے اس آیت سے استدلال کرنا ایسا ہے جیسا کہ لاتقربوا الصلوٰۃ سے نماز کے نہ پڑھنے پر استدلال کرنا جس کا بیان مختصر یہ ہے کہ مشتقات لفظاِسْتَمْتَعْتُمْ کے قرآن مجید میں چند جگہ آئے ہیں اور سب جگہ اس کے معنے فائدہ اٹھانا اور نفع حاصل کرنا ہیں نہ عقد موقت اور متعہ شیعہ وغیرہ کا چنانچہ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارہ میں فرماتا ہے  ۱؎ یعنی پس فائدہ اٹھایا تم نے اپنے حصہ کے ساتھ جیسا کہ نفع اٹھایا تھا ان لوگوں نے جو تم سے پہلے تھے اپنے حصہ کے ساتھ ایضاً فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے کفار کے حق میں ۲؎ ترجمہ تم لے چکے اپنی طیبات یعنی مزہ کی چیزیں اپنی زندگانی دنیا میں اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔ان دونوں آیتوں میں اور نیز دیگر مقاموں میں معنی استمتاع کے بالاتفاق عقد موقت یعنی متعہ کے ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتے۔آگے رہی آیت متنازع فیہا تو واضح ہو کہ خود اسی آیت میں ۱؎ التوبہ : ۶۹ ۲؎ الاحقاف: ۲۱