مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 432
از سخن ہا کے شود این کار و بار صدق مے باید کہ تا آید نگار علم را عالم بتے دارد براہ بت پرستی ہا کند شام و پگاہ گر بعلم خشک کار دین بُدے ہر لئیمے راز دار دین بُدے یار ما دارد بباطن ہا نظر ہان مشو نازان تو با فخر دِگر ہست آن عالی جنابے بس بلند بہر وصلش شورہا باید فگند زندگی در مردن عجز و بکاست ہرکہ اُفتادست او آخر بخاست تانہ کار درد کس تاجان رسد کے فغانش تا در جانان رسد ہرکہ ترک خود کند یابد خدا چیست وصل از نفس خود گشتن جدا لیک ترک نفس کے آسان بود مردن و از خود شدن یکسان بود تانہ آن بادے وزد بر جان ما کور باید ذرّۂ امکانِ ما کے درین گرد و غبارے ساختہ مے توان دید آن رخ آراستہ ۱۲۵۔باتیں بنانے سے یہ کام نہیں چلتا کامیابی کے لئے وفاداری درکار ہے- ۱۲۶۔عالموں نے اپنے علم کو ُبت بنایا ہوا ہے اور وہ صبح شام ُبت پرستی میں مشغول ہیں- ۱۲۷۔اگر خشک علم پر ہی دین کا مدار ہوتا تو ہر نالائق انسان دین کا محرم راز ہوتا - ۱۲۸۔ہمارا یار تو باطن پر نظر رکھتا ہے تو اپنی کسی اور خوبی پر نازاں نہ ہو- ۱۲۹۔وہ بارگاہ نہایت اونچی اور عالی شان ہے اس کے وصل کے لئے بہت آہ وزاری کرنی چاہئے- ۱۳۰۔زندگی مرنے اور انکسار اور گریہ وزاری میں ہے جو گر پڑا وہی آخر )زندہ ہو کر( اُٹھے گا- ۱۳۱۔جب تک درد کا معاملہ جان لینے تک نہ پہنچے تب تک اس کی آہ وفریاد درِ جاناں تک نہیں پہنچتی- ۱۳۲۔جو خودی کو ترک کرتا ہے وہ خدا کو پا لیتا ہے وصل کیا چیز ہے اپنے نفس سے الگ ہو جانا- ۱۳۳۔لیکن نفس کو مارنا آسان کام نہیں- مرنا اور خودی کا چھوڑنا برابر ہے- ۱۳۴۔جب تک ہماری جان پر وہ ہوا نہ چلے جو ہماری ہستی کے ذرہ تک کو اُڑا لے جائے- ۱۳۵۔تب تک اس مصنوعی گرد وغبار میں وہ حسین چہرہ کس طرح دیکھا جا سکتا ہے-