مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 427

صحت نیت چو باشد در دلے بر گلِ صدق اوفتد چون بُلبلے بر شرارتہا نمی بندد میان ترسد از دانائے اسرار نہان لیکن ایں بے باکی و ترک حیا افترا بر افترا بر افترا ایں نہ کارِ مومنان و اتقیاست این نہ خوئے بندگانِ باصفاست ہرکہ او ہر دم پرستارِ ہوا من چسان دانم کہ ترسد از خدا خویشتن را نیک اندیشیدہ اند ہائے این مردم چہ بد فہمیدہ اند اتباع نفس اعراض از خدا بس ہمین باشد نشان اشقیا ہرکہ زیں سان خبث در جانش بود کافرم گر بوئے ایمانش بود منؔ برین مردم بخواندم آن کتاب کان منزہ اوفتاد از ارتیاب ہم خبرہا پیش کردم زاں رسول کو صدوق از فضل حق پاک از فضول لیکن اینان را بحق روئے نبود پیش گُرگے گریۂ میشے چہ سُود ۷۰۔جب دل میں نیک نیتی ہوتی ہے تو وہ صدق کے پھول پر بلبل کی طرح گرتا ہے- ۷۱۔اور شرارتوں پر کمر نہیں باندھتا- وہ پوشیدہ بھیدوں کے جاننے والے سے ڈرتا ہے- ۷۲۔لیکن یہ بے باکی اور بے شرمی اور افترا پر افترا- ۷۳۔یہ ایمانداروں اور پرہیزگاروں کا کام نہیں ہے- نہ یہ پاک دل بزرگوں کی خصلت ہے- ۷۴۔وہ جو ہر وقت اپنی خواہشوں کا غلام ہے میں کیونکر جانوں کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے- ۷۵۔انہوں نے اپنے تئیں نیک خیال کر رکھا ہے افسوس ان لوگوں نے کیسا غلط سمجھا- ۷۶۔نفس کی پیروی اور خدا سے روگردانی بس یہی بدبختوں کی نشانی ہے- ۷۷۔جس کے دل میں اس طرح کی گندگی ہے اگر اس میں ایمان کی بُو بھی ہو تو پھر میں کافر ہوں- ۷۸۔میں نے ان لوگوں کے سامنے وہ کتاب پڑھی جو ریب اور شک سے پاک ہے )یعنی قرآن(۔۷۹۔نیز اس رسول کی حدیثیں بھی پیش کیں جو بفضلِ خدا راستباز ہے اور لغوگوئی سے پاک- ۸۰۔لیکن ان کا ارادہ ہی حق قبول کرنے کا نہ تھا بھیڑیے کے آگے بھیڑ کا رونا فضول ہے-