مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 427
مکتوبات احمد صحت نیست چو باشد در بر بندد دلے میان ۴۲۷ جلد پنجم بر گل صدق اوفتد چون بلبلی ترسد از دانائے اسرار نهان افترا بر بر شرارتها نمی لیکن ایں بے باکی و ترک حیا افترا افترا ای نه کار مومنان و اتقیاست این نه خوئے بندگان با صفاست ہر کہ او ہر دم پرستار ہوا من چسان دانم که ترسد از خدا خویشتن را نیک اندیشیده اند ہائے این مردم چه بد فهمیده اند اتباع نفس اعراض از خدا بس ہمین باشد نشان اشقیا ہر کہ زیں سان خبث در جانش بود کا فرم گر بوئے ایمانش بود متن برین مردم بخواندم آن کتاب کان منزه اوفتاد از ارتیاب ہم خبر ہا پیش کردم زاں رسول کو صدوق از فضل حق پاک از فضول لیکن اینان را سحق روئے نبود پیش گر گے گریه میشی چه سود ے۔ جب دل میں نیک نیتی ہوتی ہے تو وہ صدق کے پھول پر بلبل کی طرح گرتا ہے۔ اے۔ اور شرارتوں پر کمر نہیں باندھتا۔ وہ پوشیدہ بھیدوں کے جاننے والے سے ڈرتا ہے۔ ۷۲۔ لیکن یہ بے باکی اور بے شرمی اور افتر اپرافترا۔ ۷۳ ۔ یہ ایمانداروں اور پر ہیز گاروں کا کام نہیں ہے۔ نہ یہ پاک دل بزرگوں کی خصلت ہے۔ ۷۴۔ وہ جو ہر وقت اپنی خواہشوں کا غلام ہے میں کیونکر جانوں کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے۔ ۷۵۔ انہوں نے اپنے تئیں نیک خیال کر رکھا ہے افسوس ان لوگوں نے کیسا غلط سمجھا۔ ۷۶۔ نفس کی پیروی اور خدا سے روگردانی بس یہی بدبختوں کی نشانی ہے۔ ے۔ جس کے دل میں اس طرح کی گندگی ہے اگر اس میں ایمان کی بو بھی ہو تو پھر میں کافر ہوں۔ ۷۸۔ میں نے ان لوگوں کے سامنے وہ کتاب پڑھی جو ریب اور شک سے پاک ہے ( یعنی قرآن)۔ ۷۹۔ نیز اس رسول کی حدیثیں بھی پیش کیں جو بفضل خدا راستباز ہے اور لغو گوئی سے پاک۔ ۸۰۔ لیکن ان کا ارادہ ہی حق قبول کرنے کا نہ تھا بھیڑیے کے آگے بھیڑ کا رونا فضول ہے۔