مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 420
مکتوبات احمد ۴۲۰ جلد پنجم آئمکرم نے علماء کے شکوہ و شکایت کے بارہ میں جو تحریر فرمایا ہے اس بارہ میں کیا کہیں اور کیا لکھیں؟ میرا اور ان کا مقدمہ آسماں پر ہے۔ پس اگر میں کا ذب ہوں اور حضرت باری عز اسمہ کے علم میں مفتری اور میرا دعویٰ کذب، خیانت اور دجل ہے اس صورت میں میرا خدا سے بڑھ کر کوئی دشمن نہیں اور جلد تر مجھ کو جڑ سے اکھاڑ دے گا اور میری جماعت کو منتشر کر دے گا کیونکہ وہ مفتری کو ہر گز امن کی حالت میں نہیں رہنے دیتا لیکن اگر میں اُس سے اور اُس کی طرف سے ہوں اور اُس کے حکم سے آیا ہوں اور میں اپنے کاروبار میں کوئی خیانت نہیں رکھتا تو کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایسے میری تائید کرے گا کہ جیسے قدیم سے صادقوں کی تائید اس کی سنت چلی آئی ہے۔ اور میں ان لوگوں کی لعنت سے نہیں ڈرتا۔ لعنت وہ ہے جو آسمان سے گرتی ہے۔ اور جب آسمان سے لعنت نہیں ہے تو مخلوق کی لعنت ایک سہل امر ہے کہ کوئی راستباز اس سے محفوظ نہیں رہا۔ لیکن آنمخدوم کے لئے حضرت عزت میں دعا کرتا ہوں کہ محض اپنی فطرت کی سعادت سے اس عاجز کے مخالفوں کو دور کرے ۔ پس اے عزیز خدا تیرے ساتھ ہو اور تمہارا انجام بخیر ہو۔ جَزَاكَا اللهُ خَيْرَ الْجَزَاء اور تجھ پر دنیا اور آخرت میں احسان فرمائے اور جہاں بھی تم ہو تمہارے ساتھ ہو اور اللہ تعالی آپ کو اپنے محبوب بندوں میں داخل فرمائے۔ آمین رحمت اے فرید وقت در صدق و صفا بر تو بارد یار ازل از تو جان من خوش ست اے خوش خصال در حقیقت مردم معنی کم اند مثنوی در با تو باد آن رو که نام او خدا تو تابد نور دلدار ازل دیدمت مردے درین قحط الرجال گو همه از روئے صورت مردم اند ا۔ اے صدق و صفا میں اس زمانہ کے بیگانہ انسان تیرے ساتھ وہ ذات ہو جس کا نام خدا ہے۔ ۲۔ تجھ پر اس یار قدیم کی رحمتوں کی بارش ہو اور تجھ میں اس محبوب از لی کا نور چمکتا رہے۔ ۳۔ اے نیک خصلت انسان تجھ سے میری جان راضی ہے اس قحط الرجال میں میں نے تجھ کو ہی ایک مرد پایا ہے۔ در اصل حقیقی انسان کم ہوتے ہیں اگر چہ دیکھنے میں سب آدمی ہی نظر آتے ہیں۔