مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 407
مکتوبات احمد ۴۰۷ جلد پنجم یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے ۔ دوفرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ ہوں گے۔ یہ اعتقاد ہرگز ایما نایت میں داخل نہیں ہے کیونکہ خیالات محض اجتہادی امور ہیں حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ وہ آسمان پر گئے کوئی حدیث ایسی ثابت نہیں ہوئی کہ جس میں یہ ذکر موجود ہو کہ عیسی آسمان پر چلا گیا تھا اور نہ کوئی ایسی حدیث پائی جاتی ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ عیسی آسمان سے نازل ہوگا ۔ پس نہ تو آسمان پر جانا ثابت ہے اور نہ آنا آسمان سے ۔ پس اس مضمون کو ماننا ایمانیات میں کیونکر داخل ہو گا ہاں مسیح موعود کا آنا جو بغیر قید نزول کے ہے وہ ضرور ایمانیات میں داخل ہے کیونکہ نہ وہ محض حدیث سے بلکہ قرآن سے ثابت ہے اس لئے اس کا انکار کفر ہے اور جو شخص اس امت کے آخری مسیح کا منکر ہے وہ قرآن کا منکر ہے اور گو عیسی کا آنا آسمان سے حقیقت اسلام سے کچھ تعلق نہیں رکھتا مگر اس امت میں سے آخری زمانہ میں ایک مسیح خاتم الخلفاء پیدا ہونا اسلام سے تعلق رکھتا ہے بلکہ جز واسلام کا ہے کیونکہ اس کے انکار سے سورہ نور کا تمام بیان باطل ٹھہرتا ہے غرض اگر چہ پیشگوئیاں اصل حقیقت ایمان میں داخل نہیں ہے مگر اس وقت داخل ہو جاتی ہیں جب ثابت ہو جائے کہ ان کے یہ معنی ہیں اور یہ در حقیقت قرآن شریف میں آگئے ہیں یا در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا اجتہاد کو اس ہے۔ کیا آپ اس قدر بھی سمجھ ربھی سمجھ نہیں سکتے کہ جب پیشگوئی کے معنے ثابت ہو گئے اور اجتہا میں دخل نہ رہا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ وہ قال اللہ اور قال الرسول ہے تو پھر کیوں وہ پیشگوئی ایمان میں داخل نہیں ہو گی کیا قیامت اور بہشت وغیرہ کی پیشگوئیاں ایمان میں داخل ہیں یا نہیں ۔ آپ پہلے اس جواب کو خوب سمجھ لیں پھر مجھے ا مجھے اطلاع دیں کہ میں نے اس کو سمجھ لیا ہے اگر شک ہو تب بھی اطلاع دیں۔ ایک سوال کے فیصلہ کے بعد پھر دوسرا سوال کریں ۱۶ دسمبر ۱۹۰۱ء ☆ یا الحکم نمبر ۴۵ جلد ۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۷، ۸