مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 406
مکتوب بنام سید عبد المجید صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مشفقی سید عبد المجید صاحب سلّمہ آپ کا خط مجھ کو ملا۔اگرچہ آپ کے سوالات ایسے غلطی سے پھرے ہوئے ہیں کہ ان کا جواب دینا تضیع اوقات ہے لیکن آپ کے دعوے طلب حق پر خیال کر کے لکھنا پڑا۔اوّل۔آپ ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۴۰ سے یہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اس سے اقرار پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود جب ظاہر ہو تو اس کا ماننا غیرضروری ہے اور کسی پیشگوئی کا ماننا ایمان میں داخل نہیں۔اس عبارت کے معنے آپ نے اُلٹے سمجھ لیے ہیں کیونکہ اخبار قیامت اور حشرونشر اور بہشت و دوزخ سب برنگ پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں۔کیا ان پر ایمان لانا نہیں چاہیے اور کیا ان کے انکار سے ایک مسلمان مسلمان رہ سکتا ہے پس جس خدا نے یہ پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں اسی خدا نے مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی بھی بیان فرمائی ہے اگر خدا کی پیشگوئی سے انکار کرنا کفر کا موجب ہے تو اس پیشگوئی کی تکذیب کرنا بھی موجب کفر ہو گا۔اور باوجود اس کے یہ بھی سچ ہے کہ طبعی طور پر ہر ایک پیشگوئی ایمانیات کی جزو نہیں ہے بلکہ جزوبنائی گئی ہے۔یہی امر ہم نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۴۰ میں لکھا ہے اور اس عبارت کی تشریح یہ ہے کہ اصل ایمانی امور تو محدود ہیں جو قرآن شریف میں آ چکے ہیں اور ثابت ہو چکے ہیں اور دوسری پیشگوئیاں جو حدیثوں میں درج ہیں وہ اس وقت ایمانیات کی جزو بنائی جاتی ہیں جب ثابت ہو جائے کہ یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہے اور وہی معنے اس کے صحیح ہیں جو بیان کیے گئے ہیں کیونکہ ثبوت کے بعد ایک پیشگوئی کو ایمانیات میں داخل نہ کرنا ایک بے ایمانی ہے لیکن جب تک ثبوت نہ ہو تو ان تشریحوں کو ایمانیات میں داخل کرنا جو محض اجتہادی ہیں، سراسر حماقت اور جہالت ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین تو بہشت اور دوزخ کی اجتہادی تشریحوں کو بھی ایمانیات میں داخل نہیں سمجھتے تھے چہ جائیکہ اور پیشگوئیاں۔پس اسی طرح نزول مسیح کا مسئلہ یعنی