مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 398

دوسرے شہروں میں چلاجاتاہے جہاں ہوا صاف ہوتی ہے تو اس کے اندر کا مادہ خراب اس صفائی کی برداشت نہ کرکے جلد بھڑک اٹھتا ہے اوراگرچہ اپنے شہر میں وہ شخص بخیریت ہوتاہے تا ہم دوسرے شہرمیں آکر وہ بیماری میں مبتلا ہو جاتاہے اور پھر اس کی بیماری اس تمام شہر کے واسطے موجب ہلاکت ہو جاتی ہے۔پس اس بات سے رسول اللہ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص مطعون شہر سے بھاگ کر دوسرے شہروں کو خراب کرتا پھرے اوراگر اس بات پر ہندوستان میں عمل ہوتا تو بہت سے مصائب سے لوگ بچ جاتے۔لیکن یہ اخراج اس وقت منع ہے جب کہ طاعون واقع ہو جائے یعنی خوب بڑھ جائے۔لیکن ابتداابتدا میں نکل جانا فلا تقدموا کے حکم کے نیچے ہے۔جب آدمی دیکھے کہ کسی جگہ طاعون پڑنے لگا ہے تو پھر وہاں رہنا گویا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اس واسطے وہاں سے نکل جانا جائز ہے۔تیسرا اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے اور یہود کے ساتھ اس کی خاص مناسبت ہے اور اس کے آئندہ واقع ہونے کے متعلق آنحضرت نے اس حدیث میں ایک اشارہ کیا ہے اورسمجھایا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو ایسے وقت میں نازل ہوتاہے جبکہ لوگ یہود خصلت ہوجائیں اور تمہارے درمیان بھی ایسا ہوگا اوراس وقت تم نے ایسا کرنا اورایسا نہ کرنا۔پس یہ پیشگوئی اس زمانہ میں پوری ہوئی ہے۔کوئی ہے جو غور کرے اور سوچے اور فائدہ اٹھائے۔لیکن یہ بات کہ آدمی اگرچہ دوسرے شہروں میں نہ جائے تاہم یہ مناسب ہے کہ اسی شہر کے اردگرد اچھی ہوا میں جارہے۔یہ بات بھی اسی حدیث سے اور آیت  ۱؎سے ثابت ہے۔کیونکہ جب طاعون ایک رِجز ہے اور رِجز اور رُجز مترادف الفاظ ہیں جن کے معنے ہیں گندگی، توانسان کو چاہئے کہ گندگی سے بچنے کی کوشش کرے طبعاً بھی جب آدمی کے کپڑے میلے ہو جاتے ہیں تو وہ اُن کو بدلتا ہے اور مکان کی صبح شام صفائی کرتاہے اور جس جگہ بدبو ہو وہاں سے اٹھ کر اور جگہ جا بیٹھتا ہے۔پس جب گلی کوچوں میں طاعون کی گندی ہوا پھیل جائے تو ایسی گلی کوچوں کو چھوڑ دینا اور اچھی ستھری جگہ جا بیٹھنا فطرتاً ایک عمدہ اور مفید امر ہے اور اسی پرعمل کرکے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس وقت جبکہ نشیب زمین میں طاعون پڑا تو ان صحابہ کبار کے مشورے کے بعد جو حضرت رسول کریم کی صحبت سے اکثر مستفیض ہو چکے تھے فوج کو وہاں سے ہٹا کر اونچی جگہ یعنے پہاڑی پر چڑھا دیا تاکہ اس جگہ کی گندی ہوا سے سب بچ کر صاف ہوا میں آجاویں اور انتشار موجب صفائی ہو جائے۔حضرت عمرؓ کا یہ فعل قرآن شریف اور حدیث قدسی کے متابعت کے مطابق تھا اور یہ حدیث جو آپ نے تحریر کی ہے کہ ۱؎ المدثر : ۶