مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 376

توضعف اورپیرانہ سالی نے دور کر دئیے تھے اور بقیہ ان کا اس معرفت نے دور کردیا جو فیاض مطلق نے عطا فرمائی۔اب ان حالات کے ساتھ آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر کسی تالیف میں غلطی جو لازم بشریت ہے پائی جائے تو کیا بعید ہے بلکہ بعید تویہ ہے کہ نہ پائی جائے بہت سے نیک دل اور پرہیزگار اس جگہ رہتے ہیں اور نوبت بنوبت اچھے علماء اور ادیب آتے رہتے ہیں اور ایک قافلہ بزرگوں کا لازم غیرمنفک کی طرح اس جگہ رہتا ہے ان سے آپ دریافت کر سکتے ہیں کہ اس عاجز کی طرز تالیف کیا ہے اگر آپ دریافت کریں گے تو آپ پربھی ثابت ہوگا کہ تالیفات ایک خارقِ عادات طور پر ہیں۔میر ی عمر کا یہ تجربہ نہیں کہ کوئی انسان بجز خاص تائیدات الٰہی کے باوجود اس ضعف اور دامنگیر ہونے انواع واقسام کے امراض کے اور باوجود اس کثرت شغل خطوط اور مہمانداری کے پھر یہ فرصت پا سکے کہ بہت سا حصہ نثر موزون کا جو بعض اوقات قریب قریب ایک جزو کے ہوتی ہے معہ اُن اشعار کے بعض اوقات سو سو بلکہ سو سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں بتیس پھر میں لکھ دئیے۔اگر آپ کا کوئی تجربہ ہو تو میں آپ سے کوئی بحث کرنا نہیں چاہتا اورنہ میں اپنے نفس کو کوئی چیز سمجھتا ہوں۔باوجود ان سب اسباب کے کبھی مجھ کو موقع نہیں ملتا کہ جو کچھ لکھا ہے سوچ کی نظر سے اس کو دیکھوں۔پھر اگر اسطور کی تحریر وں میں اگر کوئی صرفی یا نحوی غلطی رہ جائے تو بعید کیا ہے۔مجھے کب یہ دعویٰ ہے کہ یہ غیر ممکن ہے۔ان کم فرصتوں اوراس قدر جلدی میں جو کچھ قلم سے گزر جاتا ہے میں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتاہوں۔ہاں اگرغلطی ہے تو میرے نفس کی وجہ سے۔پھر ان غلطیوں کے ساتھ سہو کاتب شامل حال ہو جاتا ہے۔پھر کب دعویٰ ہو سکتا ہے کہ یہ کتابیں صرفی یا نحوی غلطی سے پاک ہیں۔لیکن باوجود اس کے میں کہتا ہوں اور زور سے کہتا ہوں کہ اس جلدی کے ساتھ جو کچھ نظم اورنثر عربی مخالفوں کے الزام و افحام کے لئے میرے منہ سے نکلتے تھے وہ میرے منہ سے نہیں بلکہ ایک اور ہستی ہے جو ایک جاہل نادان کو اندر ہی اندرمدد دیتی ہے اور بیشک وہ امر خارق عادت ہے اور کسی عدودین اور عدو مادفیتن کو یہ توفیق ہرگز نہیں دی جائے گی کہ وہ انہیں لوازم ارتجال اور اقتضاب کے ساتھ اس کو اخیر تک نباہ سکے۔