مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 375

مکتوب بنام مولوی اصغر علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ازعاجز احقرعباداللہ احد غلام احمد عافاہ اللہ وایّد بخدمت اخویم مولوی اصغر علی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعدہذا آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا آپ کی یہ صفت قابل تعریف ہے۔جوآپ اس گروہ میں سے نہیں ہیں جو محض جلد باز ہیں اور تعصّب کے روسے ایک مسلمان کا نام کافر اوردجال اور بے ایمان بلکہ اکفر کہتے ہیں۔اورمعلوم ہوا کہ آپ کی تحریراس غرض سے تھی کہ بعض مقامات حمامۃ البشریٰ میں صرفی یانحوی یا عروضی غلطی ہے۔اور نیز آپ کی دانست میں بعض مضامین یا فقرات یا اشعار اس کے چرا لئے ہیں۔سو عزیز من! اس کے جواب میں یہ گزارش ہے کہ یہ عاجز نہ ادیب نہ شاعر اور نہ اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتا ہے اور نہ اس شغل میں کوئی حصہ عمر کا بسر کیا ہے اور نہ ان عبارتوں اور اشعار کے لکھنے میں کوئی معتدبہ دِقّت وقت خرچ ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ تحریریں معمولی خطوں کی طرح اپنی اوقات معمورہ میں سے ہر روز ایک دو گھنٹے نکال کر لکھی گئی ہیں اور ساتھ ساتھ کاپی نویس لکھتا گیا اور اگر کبھی اتفاقاً پورا دن ملا تو ایک ایک دن میں سو سو شعر تیار ہوگیا اور وہ بھی پورا دن نہیں کیونکہ اگر آپ اس جگہ آکر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ دن رات کس قدر مشغولی ہے۔خطوط کا یہ حال کہ کبھی تین سو کبھی چار سو کبھی پانچ سو ماہوار آجاتاہے اور بعض خطوط کا جواب رسالہ کی طرح لکھنا پڑتا ہے مہمانداری کا یہ حال ہے کہ ایک جہان توجہ کررہا ہے ایک قافلہ مہمانوں کا ہمیشہ رہتا ہے۔اور عجیب عجیب صاحب کمال مدنیؔ شامیؔ مصریؔ اور اطراف ہندوستان سے آتے ہیں۔بباعث رعایت حقِ ضیف بہت حصہ وقت کا ان کو دینا پڑتا ہے۔عمر کا یہ حال ہے کہ پیرانہ سالی ہے۔ضعیف الفطرت ہوں علاوہ اس کے دائم المریض اور ضعف ِ دماغ کا یہ حال ہے کہ کتاب دیکھنے کااب زمانہ نہیں جوکچھ خیال میں گزرا وہ لکھ دیا یا لکھا دیا۔دورانِ سر لاحق حال ہے۔ادنیٰ محنت سے گوفکر اور سوچ کی محنت ہو مرض راس دامنگیرہو جاتاہے۔عمر اخیر ہے۔مرگ سریرپرتکبرّ اور نازجو لوازم جوانی اورجہل ہیں کچھ