مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 372
مکتوب بنام مکرم نواب احمد علی خان صاحب بہادر از عاجز مستغفر الی اللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ و ایّد بخدمت مکرم نواب احمد علی خان صاحب بہادر عرف سلطان الدولہ سلمہُ اللہ تعالیٰ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس وقت اس عاجز کو اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب سابق مہتمم مصارف ریاست بھوپال ملے اور مولوی صاحب موصوف نے دلی جوش اور اخلاص محبت کی وجہ سے جو وہ آنمکرم سے رکھتے ہیں بہت کچھ صفات حمیدہ اور اخلاق فاضلہ آنمکرم کا ذکر کیا اور آنمکرم کی عالی دماغی اور متانت شعاری اور دین پروری اور راستبازی اور بلند ہمتی اور نیک نیتی اور ہمدردی اسلام اور محبت اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسقدر باربار ذکر کیا کہ میرے دل میں بوجہ ان محاسن اور خوبیوں کے آپ کی محبت پیدا ہو گئی اور آپ کی خداداد سعادت و نجابت اور جوہر قابل پر نظر کرنے سے میرے دل میں خیال آیا کہ میں خاص طور پر اپنے حالات سے آپ کو مطلع کروں۔مگر اس تحریر میں بجز اس بات کے کہ محض لِلّٰہآنمکرم کو ان باتوں پر آگاہ کر دوں جو طلب حق کے لئے کام آ سکتیں ہیں۔اور میری کچھ بھی غرض نہیں۔مولوی سید محمد احسن صاحب نے آپ کا ذکرِ خیر اس عمدہ طرز سے میرے پاس بیان کیا ہے۔جس نے مجھے اس بات کا مشتاق کر دیا کہ میں ان روحانی اور آسمانی نعمتوں سے آپ کو اطلاع دوں جو مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے ہیں۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جس طرح غربا اور مساکین میرے ساتھ تعلق ارادت کر کے نفع دین و آخرت اٹھا رہے ہیں۔ایسا ہی کوئی امرا ء میں سے میرے ساتھ تعلق پیدا کرے دین اور دنیا میں سعادت پیدا کرے اورہر ایک قسم کی کامیابی سے متمتع ہو جائے۔سو آپ پر واضح ہو کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر اس صدی چاردہم کی اصلاح اور دین کی تجدید اور اس زمانہ کے ایمان کو قوی کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور بہت سے آسمانی