مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 368

کہ توریت کی آیت آیت اُن کو حفظ کی طرح تھیں لیکن چونکہ اُن میں تقویٰ نہیں تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن کا نام علماء ربّانی نہیں رکھا بلکہ اُن کو اس لائق بھی قرار نہیں دیا کہ انسان کے نام سے موسوم کئے جائیں۔غرض بجز کمال جو ہر تقویٰ کے صرف علم رسمی کی آنکھ کسی کام نہیں آتی۔آج کل اکثر لوگوں کی آنکھوں پر جس قدر تاریکی و بدظنی و بدگمانی چھا گئی ہے اگر غور کرکے دیکھا جاوے تو اس کا باعث بجز ترک تقویٰ اورکوئی چیز نہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کسی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا اُس کو کہا کہ کیا تو چوری کرتا ہے تو اُس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ہے میں چوری نہیں کرتا تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں کو جھٹلایا اورتیری تصدیق کی۔سوانہوں نے چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھ کر پھر صرف اُس کے قسم کھانے پر کیوں اُس کو محل سرقہ سے بری قرار دیا۔اُس کا یہی سبب تھا کہ اُس نبی معصوم کی آنکھیں تقویٰ کے کحل الجواہر سے مکحل تھیں۔سو اُس نے نہ چاہا کہ ایک شخص کو اللّٰہ جلّ شانہ کی قسم کھاتے دیکھ کر پھر اُس قسم کو ذلّت اورخواری کی نظر سے دیکھے۔لیکن اس جگہ اس عاجز نے ان موجودہ علماء کے مقابل پر جو اس عاجز کو ایک عمرسے تائید اور خدمت اسلام میں مشغول اورفدا شدہ دیکھتے ہیں کئی مرتبہ خدا تعالیٰ کی قسمیں کھاکر کہا کہ میں کسی نبوۃ کا دعویٰ نہیں کرتا اورنہ معجزات کا منکر ہوں اورنہ لیلۃ القدر اورمعراج اور ملائکۃ کے وجود کا انکاری اورنہ کسی دوسرے عقیدہ اسلام سے برگشتہ ہوں مگر پھر بھی یہ لوگ تکفیر سے باز نہیں آتے ان کی آنکھوں میں اس عاجز کی اُس چورجتنی بھی قدرنہیں جو مسیح علیہ السلام کی آنکھوں میں تھا اس کا انصاف روزانصاف ہوگا۔اللّٰہ جلّ شانہ فرماتا ہےٌ ۱؎ مگر ان لوگوں نے بغیر اس کے کہ میرے حالات کا ان کو پورا علم ہوتا یوں ہی کافر کافر کاشور مچا دیااور ہرچند میں نے ہزارہا دفعہ ا ن کے روبرو شہادت دی کہ میں کلمۂ طیب لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا قائل اور مقرہوںاور ان سب باتوں پرایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اوراحادیث صحیحہ ومرفوعہ متصلہ میں درج ہیں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتاہوں لیکن ان علماء نے میرے اس بیان کی بھی کچھ پرواہ ۱؎ بنی اسراء یل : ۳۷