مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 367
مکتوب بنام مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مکرمی اخویم مولوی احمداللہ صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ افسوس کہ مجھے دہلی سے واپس آنے کے وقت آپ سے ملاقات کرنے کا اتفاق نہ ہوا۔ہرچند ارادہ تو تھا کہ چند روز آپ کی ملاقات کے لئے امرتسر میں ٹھہرجائوں مگر اہل وعیال میرے ساتھ تھے اور میں بوجہ مرض خارش مجبور تھا اس وجہ سے ٹھہر نہ سکا۔اوراس جگہ آکر بیماری خارش اس قدر ترقی کرگئی کہ ابھی سفر کرنے سے بکلی مجبور ہوں باایں ہمہ آپ کی ملاقات کو دل بہت چاہتا ہے اور تمنائے قلبی ہے کہ آپ سے ملاقات ہو کر بعض امور واجب الاظہار آپ کی خدمت میں عرض کئے جائیں لیکن بوجہ سخت مجبوری بیماری مذکورہ کے امرتسر میں جا نہیں سکتا اور چونکہ خارش امراض مزمنہ میں سے ہے اس لئے معلوم نہیں کہ کب تک اس سے شفا حاصل ہو۔آج غلبۂ شوق ملاقات کی وجہ سے اور نیز بنظرِ محبت واخلاص آنمکرم کے یہ خیال آیا کہ اگر آنمکرم کو اسی جگہ آنے کی تکلیف دوں تو اُمید قوی ہے کہ تشریف آوری سے دریغ نہ فرماویں گے لہٰذا مکلف ہوں کہ براہ مہربانی صرف تین چار روز کے لئے ضرور تشریف لاویں آپ کی آمدورفت کا خرچ میرے ذمہ ہوگا محض مصلحت دینی کی وجہ سے آنمکرم کو تکلیف دیتا ہوں کیونکہ دیکھتا ہوں کہ تقویٰ جو راس الخیرات ہے آنمکرم میں پایا جاتاہے اورہر ایک امر دینی فہم اور فراست اور درایت کا تقویٰ پر موقوف ہے۔اگر کسی انسان میں تقویٰ موجود نہ ہو تو اگرچہ وہ اتنی کتابوں سے لدا ہوا ہو کہ جس قدر ریل گاڑی میں لکڑی وغیرہ لدی ہوئی ہوتی ہے تب بھی وہ کتابیں بغیر تقویٰ کے اس کو کچھ مفید نہیں ہو سکتیں جیسا کہ یہودیوں میں بہت سے علماء ایسے تھے