مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 366

ہیں سو جب کہ دلوں پر اثر ڈالنے کا ایک یہ بھی طریق ہے تو ہم کیوں اس میں پیچھے رہیں بہرحال اس مدرسہ کا قائم رہنا اسی بات پر موقوف ہے کہ ہماری جماعت کی اس طرف بھی پوری توجہ ہو۔بباعث اس سلسلہ کے ابتدائی حالت کے ہر ایک شاخ میں مشکلات تو بہت ہیں۔منار کے لئے ابھی روپیہ کافی نہیں بعض کتابیں جن کے لئے ارادہ ہے کہ کم سے کم بیس بیس ہزار چھپ جائیں ان کے لئے کچھ بھی سامان نہیں۔مہمان خانہ کے لئے بعض ضروری عمارتوں کی ضرورت ہے ان کے لئے روپیہ نہیں لیکن یہ ایسے امور ہیں کہ ابھی ہماری جماعت کی طاقت سے خارج معلوم ہوتے ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ ان غموں کو خدا تعالیٰ ہمارے دل پر سے دور کرے لیکن اگر ہماری جماعت کی توجہ ہو تو قادیان کے مدرسہ کے قائم رہنے کے لئے بالفعل بہت مدد کی ضرورت نہیں اگر ایک ہزار آدمی چارچار آنے ماہواری اپنے ذمہ قبول کرلے تو اڑ۲۵۰ھائی سو روپیہ ماہواری مدرسہ کو مل سکتا ہے اور رونق کے بعد فیس کی آمدن بھی ہو سکتی ہے۔غرض اس مشکل کے دور کرنے کے لئے مرزا خدابخش صاحب کو روانہ کیا جاتا ہے ہر ایک صاحب جو اس کام کے لئے کوئی مدد تجویز فرماویں وہ لنگرخانہ سے اس مدد کو مختلّط نہ کر دیں۔یہ اختیار ہو گا کہ اگر مقدرت نہ ہو تو لنگرخانہ کی رقم … سے جو ان کے ذمہ ہے کچھ کم کر کے اس میں شامل کر دیں مگر اس کو بالکل الگ رکھیں اور یہ رقم بخدمت محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب بمقام قادیان یا جس کو وہ تجویز کریں آنی چاہیے تاحساب صاف رہے کیونکہ لنگرخانہ کا روپیہ میرے پاس پہنچتا ہے اور یہ کام دِقت سے خالی نہیں کہ پہلے مدرسہ کا روپیہ میرے پاس پہنچے اور پھر میں وہ روپیہ کسی دوسرے کے حوالہ کروں بالفعل یہ تمام کاروبار مدرسہ نواب صاحب موصوف کے ہاتھ میں ہے پس انہیں کے نام روپیہ آنا چاہیے بہر حال اس مدرسہ کے لئے کوئی خاص ر قم مقرر ہونی چاہیے جو ماہ بماہ آیا کرے۔میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ قائمی مدرسہ بامید اس نیک نتیجہ کے ہے جس کے ہم امیدوار ہیں اسی لئے ہم اس سلسلہ کے ضروری اخراجات میں اس کو شریک کرتے ہیں۔والسلام علی من اتبع الھدٰی٭ الراقم المفتقر الی اللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ و اید ٭ الحکم نمبر۲۳ جلد۶ مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۲ء صفحہ ضمیمہ الحکم