مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 365

مکتوب بنام احمدی قوم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بخدمت جمیع اخوان و احباب ایں سلسلہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سب سے پہلے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں جوش مارتا ہے جس نے میری جماعت کو سچی ارادت اور محبت اور ہمدردی عطا فرمائی ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ توفیق ان کو ہرگز نہ دی جاتی کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قدم پر اس درجہ کی اطاعت کرتے کہ باوجود اپنی مالی مشکلات اور کمی آمدن کے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت مالی میں مصروف ہوتے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سب کے مالوں میں برکت دے اور یہ نصرت اور اعانت جو وہ دینی اغراض کی تکمیل کے لئے کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ دونوں جہانوں میں ان کی بھلائی کا موجب کرے۔آمین ثم آمین۔بعد اس کے اے عزیزان! اس وقت اخویم میرزا خدا بخش صاحب کو آپ صاحبوں کی خدمت میں اس غرض سے روانہ کیا جاتا ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مدرسہ قادیان کی قائمی کے لئے جو آمدن ہونی چاہیے اس کی حالت بہت ابتر ہے اور اگر یہی حال رہا تو پھر اس مدرسہ کا قیام مشکل ہے اگرچہ ہمارے سلسلہ کے لیے جو اصل غرض ہماری زندگی کی ہے کوئی عمدہ اور معتدبہ نتیجہ ابھی تک اس مدرسہ سے پیدا نہیں ہوا مگر اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ اگر پوری احتیاط اور انتظام سے کام لیا جاوے تو پیدا ہو سکتا ہے۔زمانہ حال میں حکمت عملی پر چلنے والے جس قدر فرقے ہیں انہوں نے مان لیا ہے کہ سادہ دلوں پر اثر تعلیم ڈالنے کے لئے جس قدر سریع الاثر اور پائدار یہ طریق ہے اور کوئی طریق نہیں اسی لئے وہ لڑکے جو پادریوں کے سکولوں کالجوں میں پڑھ کر اور ایک مدت تک ان کے زیر اثر رہ کر جسقدر خراب ہوتے اور نفرت دل سے اسلام کے دشمن ہو اجاتے ہیں اسقدر وہ لوگ نہیں جو محض روپیہ کے لالچ سے عیسائی ہوتے