مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 364
مکتوب بنام جماعت مونگ ضلع گجرات السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں نے تمام خط پڑھ لیا ہے۔میرے نزدیک مناسب ہے کہ بے صبری نہ کریں۔بلکہ اپنے صبر اور استقامت اور نرمی اور اخلاق کے ساتھ دشمن کو شرمندہ کریں اور نیک سلوک سے پیش آویں۔اور بہت نرمی کے ساتھ اپنے عقائد کی خوبی اور راستی ان کے ذہن نشین کریں اور اپنا نیک نمونہ ان کو دکھلاویں۔ممکن ہے کہ وہ ایذادہی کی خصلت سے باز آجاویں۔بہر حالت بے صبری نہیں کرنی چاہیے اور کچھ صبر استقامت سے کام لینا چاہیے اور اپنے دشمنوں کے حق میں ہدایت کی بھی دعا کرتے رہیں۔کیونکہ ہمیں خدا نے آنکھیں عطا کی ہیں اور وہ لوگ اندھے اور دیوانہ ہیں۔ممکن ہے کہ آنکھ کھلے تب حقیقت کو پہچان لیں۔علاوہ اس کے خدا تعالیٰ نے مجھے ایک بڑے نشان کا وعدہ دیا ہے اور جہانتک میرا خیال ہے وہ ایک سخت زلزلہ ہو گا جو دنیا کے دلوں کوہلا دے گا اور وہ بہت سخت ہو گا۔بہتیرے اس کے صدمہ سے دنیا سے گزر جائیں گے اور بہتیرے ایمان پائیں گے۔مردے زندہ ہوں گے اور زندہ مریں گے اور ضرور ہے کہ جاہل لوگ اپنی ضد پر قائم رہیں جب تک خدا تعالیٰ کا وہ دن آوے اور ہر ایک دنیا کو زیروزبر کرے سو اس وقت تک اپنے صبر اور نیک چلنی کا لوگوں کو نمونہ دکھائو اور بدی کی جگہ نیکی کرو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر ہو اور میں انشاء اللہ تعالیٰ سب کے لئے دعا کروں گا۔٭ ۹؍فروری ۱۹۰۶ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد ٭ الحکم نمبر۶ جلد۱۰ مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۲