مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 363
جناب مرشدنا و مولانا امام الزمان علیہ الصلوٰۃ و السلام بعد از السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ ہم تین شخص جماعت احمدیہ مقام مونگ ضلع گجرات سے تین روز سے حاضر حضور ہوئے ہیں۔اپنی عرض حال کے واسطے کوئی موقع اور وقت ایسا ہاتھ نہیں آیا جو اپنے حالات زبانی حضور میں عرض کئے جاتے۔اس لئے یہ عریضہ خدمت حضور میں پیش کرتے ہیں۔اوّل میں مسمی عبداللہ موچی اپنا عرض حال کرتا ہوں کہ مجھ کو حضور سے بیعت ہوئے عرصہ تقریباً ڈیڑھ سال کا گزرا ہے۔اس عرصہ میں مخالفین نے اکثر تکالیف پہنچائی ہیں اور اب بھی پہنچا رہے ہیں۔کاروبار دنیوی میں بھی ہر طرح سے روک ڈال رہے ہیں۔غرضیکہ ہر طرحسے نقصان پہنچاتے ہیں۔کوشش بلیغ کرتے ہیں بلکہ خاص رشتہ دار بھی میرے دشمن ہو گئے ہیں۔مجھ کو وہاں پر رہنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔کسی صورت سے مجھ کو وہاں پر گزارہ کرنا نظر نہیں آتا۔بہر طور وہاں پر مجبور ہو گیا ہوں اور میری طبیعت بھی خود ان لوگوں سے بیزار ہے۔میں خود ان میں رہنا نہیں چاہتا۔مگر مجبور پڑا ہوا ہوں۔اب میری بابت جیسا کچھ حضور انور مناسب سمجھیں حکم فرماویں۔اب مجھ کو کیا کرنا چاہیے۔جیسا حکم ہو عمل میں لائوں۔دوسرا میرا بھائی احمد الدین ہے۔اس کی بھی ایسی ہی حالت ہے۔وہ بھی وہاں پر رہنا نہیں چاہتا۔اور تیسرا امام الدین نامی کشمیری ہے اس کو وہاں پر ہماری جیسی تکلیف تو نہیں ہے مگر دعا کے واسطے وہ بھی عرض کرتا ہے۔کیونکہ مخالف زیادہ ہیں اور ہم صرف تین شخص احمدی ہیں۔