مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 353
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کے دروس قرآن مجید کو دوسروں تک پہنچایا جانے لگا۔آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح ؓ کے حکم سے ’’اصلاح النظر‘‘ ایک رسالہ لکھا اور ان کے علاوہ ’’سالانہ جلسہ ۱۸۹۷ء کی رپورٹ‘‘ ، ’’مکتوبات احمدیہ‘‘ اور ’’سیرت مسیح موعود ؑ ‘ ‘ کو ترتیب دے کر شائع کیا۔اسی طرح ’’حیات النبیؐ ‘‘ اور ’’حیات احمد‘‘ کے نام پر متعدد جلدوں میں حضرت مسیح موعود ؑ کی حیاتِ طیبہ کے حالات شائع کئے جو ابتداء سے ۱۹۰۰ء تک کے واقعات پر مشتمل ہے۔۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے انتقال ہونے پر جب جماعت میں عظیم تفرقہ واقع ہوا تو حضرت شیخ صاحب مرحوم نہایت اخلاص کے ساتھ خلافت ثانیہ سے وابستہ رہے اور بحمد اللہ اسی پر ان کا خاتمہ ہوا۔۱۹۲۴ء میں سفر یورپ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ شیخ صاحب کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے اور مسجد لنڈن کے افتتاح کے موقع پر بھی آپ لنڈن میں موجود تھے۔جون ۱۹۲۵ء میں آپ یورپ اور بلاد اسلامیہ کی سیاحت کے لئے روانہ ہوئے اور دو سال تک آپ یورپ کے مختلف ممالک اور بلاد اسلامیہ میں ہی رہے۔اپریل ۱۹۳۲ء میں سلطنت آصفیہ کی ایک شہزادی بیگم وقار الامراء نے آپ کو ساڑھے بائیس سو روپے ماہوار تنخواہ پر حیدرآباد بلایا۔اس کے بعد آپ وہیں کے ہو رہے۔یہاں تک کہ ۵؍دسمبر ۱۹۵۷ء کو آپ راہی ملک عدم ہو کر بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔آپ سلسلہ احمدیہ کے سب سے پہلے مؤرخ و صحافی اور بلندپایہ انشاء پرداز تھے۔٭ فہرست مکتوبات بنام حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ ٭ تلخیص از الفضل ۶،۷؍مئی ۱۹۵۸ء