مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 344

ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے توقف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمایئے کہ یہ ادنیٰ خدمت بجالائوں کہ اس کی تمام قیمت اپنے پاس سے واپس کر دوں۔حضرت پیرومرشد نابکار شرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرچ میرے پر ڈال دیا جائے۔پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔‘‘ حضرت اقدس ؑ اپنی کتاب فتح اسلام میں فرماتے ہیں۔’’ سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نور اخلاص کی طرح نور دین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائِ کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرتِ الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو ان کو میسر ہیںہر وقت اللہ، رسول کی اطاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک سے دریغ نہیں اور اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہردم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔‘‘ پھر حضرت اقدس ؑ نے اس وجود صدق و وفا کے بارہ میں فرمایا۔؎ چہ خوش بودے اگر ہر یک زِ اُمت نورِ دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پرُ از نورِ یقیں بودے ’’وہ تمام دنیا کو پامال کر کے میرے پاس فقراء کے رنگ میں آ بیٹھے ہیں جیسا کہ اخص صحابہ نے طریق اختیار کر لیا تھا۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۳۱) حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں۔’’ حضرت مولوی صاحب علوم فقہ اور حدیث اور تفسیر میں اعلیٰ درجہ کی معلومات رکھتے ہیں۔فلسفہ اور طبعی قدیم اور جدید پر نہایت عمدہ نظر ہے۔فن طبابت میں ایک حاذق طبیب ہیں۔ہر ایک فن کی