مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 343

کہا کہ دیکھو کہ تمہاری وہ دلیل غلط اور ظنی ہے اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے۔وہ سخت گھبرایا اور حیرت زدہ ہو کر بولا اچھا دیکھا جاوے گا۔‘‘ حضرت مولوی صاحب اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیق کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑے۔مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچے۔اس وقت حضور نے نہ بیعت کا سلسلہ شروع کیا اور نہ مسیحیت کے مدعی تھے مگر مولوی صاحب نے حضور ؑ کا نورانی مکھڑا دیکھتے ہی انوار مسیحیت کو بھانپ لیا اور آپ کی محبت اور عقیدت میں ایسے کھوئے گئے کہ سچ مچ اپنے آپ کو حضور کے قدموں پر قربان اور فدا کر دیا۔آپ نے دیکھتے ہی دل میں کہا ’’یہی مرزا ہے اس پر میں سارا قربان ہو جائوں‘‘ یہ تعلق محبت بڑھتا گیا یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت مولوی صاحب جموں میں بیمار ہوئے تو حضرت اقدس ؑ مولوی صاحب کی تیمارداری کے لئے جموں بھی تشریف لے گئے۔حضرت مولوی صاحب نے ایک عرصہ سے حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں عرض کر رکھا تھا کہ جب حضور کو بیعت کا اذن ہو تو سب سے پہلی بیعت آپ کی لی جائے۔چنانچہ حضور ؑ نے یہ درخواست منظور فرمائی۔جب حضور کو بیعت کا اذن ہو اتو حضور نے آپ کو بیعت سے پہلے استخارہ کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ مولوی صاحب استخارہ کر کے لدھیانہ پہنچے۔۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت کا دن مقرر تھا اور آپ نے سب سے پہلے بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ کی زوجہ حضرت صغریٰ بیگم جو حضرت صوفی احمد جان ؓ لدھیانہ کی بیٹی تھیں، نے خواتین میں سے سب سے پہلے بیعت کی۔تاریخ بیعت ۲۵؍مارچ ۱۸۸۹ء ہے اور بیعت نمبر۶۹ ہے۔(رجسٹر بیعتِ اولیٰ) حضرت حکیم حافظ مولانا نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاولؓ ) اپنے ایک خط میں اپنی فدائیت اور اخلاص کا یوں ذکر فرماتے ہیں۔’’مولانا۔مرشدنا۔امامنا! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔عالیجناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفاء دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلائوں اور اسی راہ میں جان دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیرومرشد! میں کمال راستی سے یہ عرض کرتا