مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 326

حضرت سید مہدی حسین صاحبؓ حضرت سید مہدی حسین رضی اللہ عنہ پٹیالہ کے گائوں سید خیری میں ایک شیعہ خاندان میں ۷؍محرم ۱۲۸۵ھ کو پیدا ہوئے۔لدھیانہ میں علم خطاطی سے شناسائی حاصل کی۔’’سرمہ چشم آریہ‘‘ ’’سبز اشتہار‘‘ تصانیف حضرت اقدس مسیح موعود ؑ پڑھنے کے بعد ایک خواب میں یہ تحریر پڑھی ’’جے حضرت مرزا صاحب‘‘ اس سے حضرت اقدس ؑ کی صداقت کے قائل ہو گئے اور ۱۸۹۳ء میں بیعت کر لی۔آپ کا بیان ہے کہ ’’میں جب قادیان پہنچا تو سیدھا مسجد اقصیٰ میں گیا۔ڈاکٹر فیض علی صاحب نے مجھے کہا کہ چلئے حضرت صاحب سے ملئے۔میں آپ کو لے چلتا ہوں۔میں نے کہا۔میں دن کے وقت ملوں گا۔اس وقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ملنے کا یہ وقت ہے۔دن کو حضرت صاحب کسی سے نہیں ملتے۔پھر کل اسی وقت ملاقات ہو سکے گی۔اس پر میں کچھ دھیما ہو گیا۔اور وہ میری گٹھری اٹھا کر مسجد مبارک کو چلے اور مجھے کہا کہ میرے پیچھے چلو…۔مجھے کہا کہ یہ حضرت صاحب تشریف رکھتے ہیں۔میں نے غلطی سے مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف رخ کیا۔جو محراب میں بیٹھے تھے اور مولوی صاحب نے مجھے حضرت صاحب کی طرف بھیج دیا۔میں نے السلام علیکم کہہ کر حضور سے مصافحہ کیا۔اس وقت مجھے اس قدر سرور حاصل ہوا کہ سب کلفت راہ کی بھول گئی اور میں اپنے کو جنت میں پاتا تھا۔یہ دسمبر ۱۹۰۰ء تھااور ۱۰ اور ۱۵؍ دسمبر کے درمیان کا کوئی وقت تھا۔حضرت اقدس نے تھوڑی دیر کے بعد مجھ سے دریافت فرمایا۔آپ کہاں سے آئے ہیں۔میں نے جگہ کا نام بتلایا۔تو مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ ہاں ان کے خطوط آتے ہیں۔پھر تھوڑی دیر بعد حضور نے دریافت فرمایا۔آپ نے کھانا کھایا ہے؟ میں نے عرض کی کہ حضور اس وقت تو میرا کھانا یہ چہرہ مبارک ہے جس کے لئے میں سات سال ترس رہا تھا۔مجھے اس سے بڑھ کر اور کوئی غذا نہیں چاہییٔ۔جو مجھے اس وقت حاصل ہو رہی ہے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ (غیرمطبوعہ)جلد۱۱ روایات سید مہدی حسین صفحہ ۲۶۶) ’’جب ۱۹۰۱ء میں میں ہجرت کر کے آیا تو خدا تعالیٰ کی توفیق سے میں نے ایک نظم اپنی