مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 319

کیے جائیں تو اس کا نتیجہ توحید اور اطاعت اور خدا کو سب پر مقدم کر لینا ہے اور بنی نوع کے حقوق کی اگر پورے طور پر رعایت کی جائے تو اس کا نتیجہ انصاف اور احسان اور رحم اور طبعی ہمدردی ہے جس میں کوئی بناوٹ نہ ہو۔اب ہماری قوم کا یہ حال ہے کہ ان ہر دو قسم کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں اور دین اسلام کو منجانب اللہ سمجھنا بھی محض عادت اور رسم کے طور پر ہے۔امیروں اور دولتمندوں کو دنیا کے خرخشوں سے فرصت نہیں جب تک قبر میں داخل نہ ہو جائیں گویا ان کے نزدیک خدا کا نام لینا بھی خلاف تہذیب ہے اور جولوگ ادنیٰ درجہ کے ہیں ان کی ہمتیں نہایت پست ہیں اور دنیا اور دین دونوں کھو بیٹھے ہیں اور اکثر علما کی حالتیں بھی قابل شرم ہیں اور میں دن رات اس درد میں ہوں کہ کوئی مرد حقیقت کو سمجھے اور پھر دل و جان سے میرے ساتھ ہو اور چونکہ میں نے آپ کو دیکھا اور مجھے آپ کی صورت دیکھ کر آپ پر نیک ظن پیدا ہوا اس لئے یہ میری خواہش ہے کہ جس طرح ہو سکے آپ اپنی زندگی کے دنوں میں سے کم سے کم دو ماہ تک میرے پاس رہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اس روشنی کو اپنے جو ہر قابل کی قوت سے بہت جلد دیکھ لیں گے اور پھر جوانمردی کے ساتھ اس آسمانی فلسفہ کو دنیا میں پھیلائیں گے۔بہت باتیں ہیں جو تحریر میں نہیں آسکتیں۔میں انصار کا محتاج ہوں اور ہر ایک وقت میری روح میں سے مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ کی آواز نکل رہی ہے۔کیا تعجب کہ خدا آپ کو میرے انصار میں سے بنا دے۔میری روح آپ کی نسبت انکار نہیں کرتی۔مقدمہ کے بگڑنے کی اطلاع ہوئی۔دعا بھی ایک ایسی چیز ہے کہ قدیم سے لوگ اس میں مختلف رائیں رکھتے رہے ہیں۔بعض قطعاً دعا کی تاثیرات سے منکر ہیں اور بعض ایسا سمجھتے ہیں کہ مقبولان الٰہی کی علامت یہ ہے کہ جو دعا ان کے منہ سے نکلی وہ فی الفور منظور ہو جائے مگر یہ دونوں گروہ غلطی پر ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دعا میں بڑی بڑی تاثیریں ہیں لیکن اس وقت کہ دعا کنندہ کو وقت ملے اور کامل درد پیدا ہو اور عقد ہمت میسر آجائے اور یہ موقع ہر ایک وقت عطا نہیں ہوتا۔٭ والسلام ٭ الحکم نمبر۳۶ جلد۵ مورخہ ۳۰؍ستمبر۱۹۰۱ء صفحہ ۴