مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 320

مکتوب نمبر۲ محبیّ مکرمی اخویم سید صاحب سلمہُ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا میرے امر میں جس قدر آںمحب کو تردّد اور کشاکش درپیش ہے وہ بھی نیک فطرت اور سعادت منشی کی علامت ہے کیونکہ مومن جوانمرد کو قبل اس کے جو کسی امر میں کوئی فیصلہ کرلے اپنے ہی مختلف خیالات سے ایک لڑائی کرنی پڑتی ہے۔مگر چونکہ اس کا سب کام نیک نیتی سے ہوتا ہے اس لئے اس لڑائی میں خدا تعالیٰ خود اس کو مدد دیتا ہے تب وہ خدا تعالیٰ سے قوت پا کر اور ایک آسمانی روشنی حاصل کر کے ایک صحیح صحیح فیصلہ کر لیتا ہے لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے انسان جس طرح رحم مادر میں تاریکی میں پر ورش پاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی پوری بناوٹ رحم میں نہ ہو جائے تب تک اس تاریکی سے نہیں نکلتا۔یہی سنت اللہ روحانی پرورش میں بھی ہے۔انسان روحانی طور پر خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قدیم قانون کے موافق کچھ کچھ بنتا جاتا ہے مگر تاریکی بھی ساتھ ساتھ ہوتی ہے اور کبھی کبھی وہ بے چین کر دیتی ہے اور ایک حرکت پیدا ہوتی ہے جس طرح رحم میں چار مہینے کے بعد بچہ میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔آخر اپنی خلقت کو پورا کر کے ان تین ظلماتی حجابوں میں سے باہر نکل آتا ہے۔ظلمات کے دن بھی ضروری ہیں جب تک کہ بناوٹ پوری ہو جاوے اور یہ امر یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اس عاجز کا یہ دعویٰ اور یہ کاروبار اس غرض سے نہیں ہے کہ مجھے ایک بت کی طرح پوجا جائے یا میری ذاتی اغراض کے لئے کوئی مجمع اور کوئی گروہ میرا تابع ہو جائے بلکہ آسمانوںکے ذوالجبروت خدا نے محض اپنے جلال اور توحید ظاہر کرنے کے لئے اور لوگوں کی اعتقادی اور عملی حالتوں کو درست کرنے کے لئے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔ہاں قدرتی طور پر مجھ کو اس کام کے لئے واسطہ بنایا گیا ہے تاجہاں تک میرے قویٰ سے ہو سکتا ہے میں اس خدمت کو بجالائوں۔مجھے اس کام میں کسی فتح یا شکست سے کام نہیں ہے۔میں ایک بندہ عبودیت شعار ہوں۔مجھے یہ جوش بخشا گیا