مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 205
۱۸؍جنوری ۱۹۰۵ء کو جبکہ میں قادیان کے ہائی سکول میں ہیڈماسٹر تھا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت بابرکت میں ایک رقعہ لکھا تھا۔جس کا اصل بمعہ جواب درج کرنا مناسب ہے۔امید ہے کہ ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہو گا۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود ؑ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ صاحبزادہ میاں محمود احمد کا نام برائے امتحان (مڈل) آج ارسال کیا جائے گا۔جس فارم کی خانہ پرُی کرنی ہے اس میں ایک خانہ ہے کہ اس لڑکے کا باپ کیا کام کرتا ہے۔میں نے وہاں لفظ نبوت لکھا ہے۔کان میں طنین ہوتا ہے۔گولیو۱؎ں کا کھانا اگر مناسب ہو تو ارسال فرمائیں۔حضورؑ کو باربار تکلیف دیتے بھی شرم آتی ہے۔اگر مناسب ہو تو اس کا نسخہ تحریر فرمائیں۔میں خود بنا لوں۔۱۸؍جنوری ۱۹۰۵ء والسلام حضور کی جوتیوں کا غلام محمد صادق عفا اللہ عنہ مکتوب نمبر۳۳ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ نبوت کوئی کام نہیں۔یہ لکھ دیں کہ فرقہ احمدیہ جو تین لاکھ کے قریب ہے اس کے پیشوا اور امام ہیں۔اصلاح قوم کام ہے۔غلام احمد عفی عنہ پس میں نے اس فارم پر حضرت ؑ کا نام یوں لکھا۔National reformation and leadership of Ahmadiyya۔۔۔۔۔۔۔۔it (300,000 members) ۱؎ ایک دفعہ میں بیمار ہو گیا تھا۔معدہ میں کچھ خرابی تھی۔بخار ہو جاتا تھا۔حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام) ایک نسخہ کے تازہ اجزاء ہر روز منگوا کر ایک گولی اپنے دست مبارک سے بنا کر مجھے بھیجتے تھے۔اس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء دی۔اس کے اجزاء مجھے اس وقت معلوم نہ تھے۔بعد میں حضرت صاحب ؑ نے مجھے بتلا دیئے تھے۔(صادق)