مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 192
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود ومہدی معہود ؑ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حسب الحکم تحقیقات کی گئی۔کرم داد اور ایک طالب علم عمر پندرہ سال شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے بُدھ کی شام کو چاند دیکھا تھا۔پہلے کرم داد نے دیکھا۔اور کرم داد کے دکھانے سے اس طالب علم نے دیکھا۔کہتے ہیں کہ چاند باریک دُھندلا اور شفق کے قریب تھا۔اور بھی کئی لوگ مسجد میں موجود تھے۔مگر باوجود ان کے بتانے کے اور کسی کو نظر نہ آیا۔اور جلد غائب ہو گیا۔یہ اُن کے بیانات ہیں۔اُن کا تحریری حلفی بیان شامل ہذا ہے۔جنتریوں میں بالاتفاق پہلی تاریخ جمعہ لکھی ہے۔لاہور، امرتسر، بٹالہ، گورداسپور بھی میں نے خطوط لکھے ہیں۔آئندہ جو حضورؑ فیصلہ فرماویں۔ایک اور عرض سیالکوٹ سے مولوی مبارک علی صاحب کا خط تاکیدی آیا ہے کہ میری گواہی کی اُن کو سخت ضرورت ہے۔ا ور تاریخ ۲۵؍ فروری مقرر ہے۔جس کے واسطے مجھے ۲۳ کو یہاں سے چلنا چاہیے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ حضوراقدس ؑ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ میں چلا جائوں۔سو میں طیار ہوں۔سُنا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں تاحال کچھ کچھ طاعون بھی ہے۔لیکن چھائونی سیالکوٹ میں نہیں ہے۔اور مولوی مبارک علی صاحب کا مکان بھی