مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 180

نے ایک بوٹ نکالا۔جو کہ بادامی رنگ کا مضبوط بنا ہوا دکھائی دیتا تھا اور اس پر بادامی ہی رنگ کے گول گول بٹن بھی لگے ہوئے تھے جو کہ صرف زیبائش کے لئے لگائے جاتے ہیں۔میرے دِل میں یہ خیال ہے کہ یہ میں نے ہی حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھیجا تھا۔سو وہ بوُٹ آنحضرت صلی اﷲ علیہ بارک وسلم نے ہاتھ میں لیا۔اور میری طرف دیکھ کر کچھ ناراضگی کے طور سے ارشاد فرمایا۔کہ ’’کیوں جی یہ کیا‘‘ اِس فقرہ سے میں اپنے دل میں خواب کے اندر یہ سمجھا کہ آپؐ فرماتے ہیں کہ اس سے عمدہ قسم کے بوٹ ہمیں تم سے آنے کی اُمید تھی۔مگر میں شرمندگی سے خاموش ہوں کہ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت سے میرے دل کو ایک تشویش ہے اور اس خواب کی ایک تعبیر میں نے یہ سمجھی ہے کہ اِس سے مُراد اُس خدمت میں کمی اور نقص ہے جو کہ میں حضورؑ اقدس کی کرتا ہوں کیونکہ میں اپنے خطوط میں لکھا کرتا ہوں کہ میں حضور اقدس ؑ نائب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جوتیوں کا غلام ہوں۔اور خواب میں بھی مجھے یہ دکھلایا گیا ہے کہ گویا میں نے آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے لئے ایک جوتی بھیجی ہے سو میں نے ایک تو یہ ارادہ کیا ہے کہ بجائے (تین روپے)کے جو میں ماہوار ارسال خدمت کیا کرتاہوں آئندہ (دس روپے)روپیہ ماہوار ارسال کیا کروں۔وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔میں ڈرتا ہوں کہ اس اولوالعزم نبی حبیبِ خدا محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ناراضگی کے سبب ہلاک نہ ہو جائوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف دس۱۰ روپیہ ماہوار ہی ارسال کروں بلکہ اس سے بھی زیادہ جو حضورؑ حکم فرماویں۔انشراح صدر کے ساتھ حاضر خدمت کرنے کو طیّار ہوں۔اور تھوڑی رقم پر غریبی کے ساتھ اپنا گذارہ کرنے کو راضی ہوں۔اس رحمٰن رحیم اﷲ کے واسطے جس نے آپ ؑ کو اس زمانہ میں اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم کا نائب بنا دیا۔حضورؑ میرے لئے دُعا اور شفاعت کریں تاکہ میں ہلاک نہ ہو جائوں۔اﷲ تعالیٰ آپ کی ہر ایک دُعا کو قبول کرتا ہے۔اور آپؑ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی دستار مبارک ہیں۔پس آپؑ میرے لئے سفارش کریں۔اور مجھے وہ طریق سکھلائیں اور اُن پر چلائیں جن سے میں اﷲ اور اُس کے رسول ؐ کو راضی کر لوں۔۱۸؍ مارچ ۱۸۹۸ء آپ ؑ کی جوتیوں کا غلام محمد صادق