مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 7
مکتوبژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مجھ کو لاہور میں ملا۔میری طبیعت علیل تھی اور میرے گھر کے لوگوں کی طبیعت مجھ سے زیادہ علیل ہو گئی تھی۔اس لئے تبدیل آب و ہوا کے لئے ہم لاہور میں آ گئے۔صاحبزادہ افتخار احمد کومیں نے تاکید کر دی تھی کہ وہ نواب صاحب اور آپ کے خط کی رسید بھیج دیں۔یعنی اب آپ کے خط کے جواب میں خواجہ کمال الدین صاحب کو کہا تھا کہ تار بھیج دیں۔مگر اب میں نے مناسب سمجھا کہ خود آپ کو اس بات سے اطلاع دوں کہ اب تو میں بیمار ہوں اور اگر میں بیمار بھی نہ ہوتا۔تب بھی اس بات کو پسند نہ کرتا کہ دہلی جیسے شہر میں جس کا میں پہلے تجربہ کر چکا ہوں جائوں اور اس جگہ نواب صاحب کی ملاقات کروں۔شائد آپ کو معلوم نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ میرے جانے پر عوام نے شور برپا کیا تھا اور ہزارہا جاہلوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ قریب تھا کہ کسی کو قتل کر دیتے سو اگرچہ میں ان کی پروا نہیں کرتا مگر ایسی شور انگیز جگہ پر میں مناسب نہیں دیکھتا کہ نواب صاحب کی ملاقات ہو۔بلکہ میرے دل میں ایک خیال آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہ یہ کہ جب تک خدا تعالیٰ نواب صاحب کی نسبت اور ان کی بہبودی دین و دنیا کے متعلق وہ خدائے قادر کوئی میری دعا قبول نہ کرے اور اس سے مجھ کو اطلاع نہ دے۔تب تک نہ ملاقات ضروری ہے اور نہ باہم خط و کتابت کی کچھ حاجت ہے اور اگر جناب الہٰی میں میری کچھ عزت ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا