مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 8
قبول کر کے کوئی امر ظاہر کرے گا جو بطور نشان کے ہو گا اور انسان میں سچا اتحاد اور سچا تعلق تبھی پیدا ہو سکتا ہے کہ جب وہ خدا کی طرف سے کچھ دیکھ بھی لے۔ورنہ صرف حسن ظن کس کام کا ہے۔اس کو معدوم کرنے والے بہت پیدا ہو جاتے ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ آپ باربار لکھتے ہیں۔نواب صاحب شریف اور سعید اور نیک فطرت انسان ہیں۔مگر پھر بھی وہ عالم الغیب تو نہیں۔انسان کثرت رائے سے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔اس لئے میں نے یہ قراردیا ہے اور اپنے ذمہ عہد کر لیا ہے کہ موسم گرما کے نکلنے کے بعد جس میں اکثر میری طبیعت خراب رہتی ہے۔نواب صاحب کی بہبودی دارین کے لئے ایک خاص توجہ کروں گا اور بعض وجوہ سے میں مناسب دیکھتا ہوں جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس وقت تک کہ میں توجہ کروں اور اس سے اطلاع بھی دیا جائوں۔سلسلہ خط و کتابت باہمی کا قطعاً بندرہے اور نہ ملاقات کا کوئی ارادہ ہو اور نہ نواب صاحب کی طرف سے میرا کچھ ذکر ہو۔مجھ کو قطعاً فراموش کر دیں۔اور اگر کوئی سبّ و شتم یا استہزا سے پیش آئے اور کہے کہ اس کے جواب سے بھی درگذر کی جائے اور جیسا کہ میں نے عہد کیا ہے۔اگر سردی کے موسم تک میری زندگی ہوئی یا گرمی کے ایام میں ہی خدا تعالیٰ نے مجھے طاقت دے دی تو میں انشاء اللہ العزیز اس عہد کو پورا کروں گا اور نواب صاحب نے جو اپنے اخلاص و محبت سے کچھ بھیجنے کا ارداہ کیا ہے یہ ان کے اخلاص اور محبت کا نشان ہے اور میں شکریہ کرتا ہوں مگر میرے نزدیک یہ بھی مصلحت کے برخلاف کیا۔٭ والسلام مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ نقل لفافہ رجسٹرڈ۔بمقام رام پور دارالریاست بمطالعہ محبی عزیزی اخویم محمد ذوالفقار علی خانصاحب سپرنٹنڈنٹ محکمہ آبکاری از لاہور کو ٹھی خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر۔۳۰؍اپریل ۱۹۰۸ء ٭ الفضل نمبر۲۵۱ جلد۳۱ مورخہ ۲۶؍اکتوبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۳