مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 139
اور دین اسلام سے خارج ہیں۔تو پھر اس میں ہمارا کیا گناہ ہے ان کو پوچھ کر دیکھ لیا جاوے۔خود کہتے ہیں کہ مسلمان کو کافر ٹھہرانے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگر ہم نے اس فتویٰ کفر کے پہلے ان کو کافر ٹھہرایا۔تو وہ کاغذ پیش کرنا چاہیے۔پھر جو شخص مولوی محمد حسین اور نذیر حسین وغیرہ کو باوجود اس فتویٰ کے مسلمان جانتا ہے۔تو کیوں کر ہمیں مسلمان کہہ سکتا ہے اور اگر ہمیں مسلمان جانتا ہے تو کیونکر ان کو مسلمان قرار دیتا ہے۔پس یہ ہے اصلیت اس امرکی کہ ہم ان لوگوں کو کافر کہنے کے لئے مجبور ہوئے۔والسلام٭ نقل دستخط خاکسار مرزا غلام احمد صاحب میرزا غلام احمد ٭ الحکم نمبر۳۰ جلد ۱۰ مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۳