مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 136

حضرت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبؓ حضرت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحبؓ کے والد کا نام سید اصغر علی شاہ صاحب تھا۔آپ دہرم کوٹ رندھاواکے رہنے والے تھے اور ڈاکٹری تعلیم کے لئے ۱۸۹۶ء میں لاہور میڈیکل سکول (میو ہاسپیٹل) میں داخل ہوئے۔۱۸۹۷ء میں لیکھرام کی نعش کو آپ نے میوہسپتال کے ایک میز پر پڑے دیکھا جبکہ کئی مہاشے اس کی نعش کے گرد جمع تھے اور ایک فوٹو گرافر فوٹو لینے کے لئے بھی۔۱۲۔۱۹۱۱ء میں جبکہ آپ کو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے ابھی چند سال ہی ہوئے تھے، آپ کے والد صاحب سید اصغر علی شاہ صاحب ساکن ڈیرہ نانک صاحب آپ کے احمدیت میں داخل ہونے سے بہت ہی رنجیدہ تھے کہ باوجود سیّد ہونے کے ایک مغل کی بیعت اختیار کی ہے۔جن دنوں آپ نوشہرہ چھائونی ضلع پشاور میں ملازمت کرتے تھے تو آپ چند روز کے لئے والد صاحب کو ملنے کے لئے ڈیرہ بابا نانک گئے۔انہوں نے کہا کہ تم نے بہت ہی غلط راستہ اختیار کیا ہے۔اگر تم پر صحیح راستہ ظاہر کیا جاوے تو اسے تسلیم کر لو گے۔آپ نے کہا کہ ازروئے قرآن و حدیث اگر احمدیت سے بڑھ کر کوئی راستہ معلوم ہو جائے تو اس کو قبول کرنے میں مجھے کوئی عذر نہیں ہو گا۔آپ فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب چونکہ اہل تشیع خیال کے تھے چنانچہ انہوں نے ٹانگہ کرایہ پر لیا اور بٹالہ میں مولوی باقر علی صاحب کے ہاں لے گئے مگر وہ اتفاق سے گورداسپور گئے ہوئے تھے۔تب انہوں نے اپنے دس بارہ رشتہ داروں کو دوپہر کے وقت ایک مکان میں اکٹھا کیا اور مجھ سے احمدیت کے حوالہ سے گفتگو کرنے لگ گئے یہاں تک کہ عشاء کا وقت ہو گیا۔اثنائے گفتگو انہوں نے کہا کہ تو ہماری باتوں کو نہیں مانتا۔اب ہم ایک